ابنا: کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے حکیم اللہ محسود کے جانشین کی تقرری پر شدید اختلافات کے بعد طالبان کی سپریم شوریٰ کے امیر عصمت اللہ شاہین کو تحریک طالبان پاکستان کا عبوری سربراہ مقرر کردیا گیا ہے جو تحریک کے مستقل اور متفقہ امیرکی تقرری تک بطور امیر کام کریں گے۔ اس بات کا فیصلہ تحریک طالبان کی شوریٰ کے غیر رسمی اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کے بعد وزیرستان کے نامعلوم مقام سے فون پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے تحریک کے نئے امیر کے تقرری کے حوالے سے میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم حکیم اللہ محسود کی فاتحہ خوانی میں مصروف ہیں جوکہ تین دن تک جاری رہے گی اس لئے ابھی تک نہ ہی تحریک کے نئے امیر کا انتخاب عمل میں لایا گیا ہے نہ ہی اس حوالے سے ابھی صلاح و مشورے شروع کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبوری مدت کے لئے طالبان کی شوریٰ کے امیر عصمت اللہ بھٹینی کو اضافی ذمہ داری دیتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کا قائم مقام امیر مقرر کیا گیا ہے اور بہت جلد اتفاق رائے سے ایک تجربہ کار شخصیت کو تحریک کا امیر مقرر کیا جائے گا۔آج کے حالات حاضرہ کے پروگرام گشت و گذار میں اس موضوع پر مشرق وسطی کے امور کے ماہراور سینئر تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی سے گفتگو کرتے ہوئے پہلے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہرچند کہ طالبان نے کہا ہے کہ نئے امیر کے نام پر ان کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن اب تو یہ خبر زبان زدعام وخاص ہے کہ اس حوالے سے طالبان میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور شاید اس بار وہ کسی ایک نام پر متفق نہ ہوں۔ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات جاری رکھنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہدکا کہنا تھا کہ امن مذاکرات جاری رکھنا ممکن ہے نہ غلاموں سے بات چیت ہوتی ہے، حکومت کی جانب سے جرگے کے منتظر تھے لیکن انہوں نے امریکا سے سودے بازی کی ہمیں حکیم اللہ محسود کی لاش کا تحفہ دیا۔تاہم ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا ہے کہ ڈرون حملے اور طالبان کی دہشت گردی دونوں ہی پاکستان کی سالمیت کیلئے اہم خطرہ ہیں، حکومت وقت دہشت گردوں سے مذاکرات کے بجائے ڈرون طیاروں کو گرائے اور فی الفور ملک بھر میں امریکی ایجنٹ طالبان دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کرے، ہم نے مجلس وحدت مسلمین کے پلیٹ فارم سے پوری دنیا میں جاری دہشت گردی اور انتہاء پسندی کی بھرپور مخالفت کی ہے، ہم پاکستان کی اٹھارہ کروڑ عوام کے دل کی آواز ہیں، کسی بھی دہشت گرد کو اس ملک میں پنپنے نہیں دینگے۔ مجلس وحدت مسلمین نے ہمیشہ مظلوم عوام کی حمایت کے لیے آواز بلند کی ہے، وحدت امت کے لئے بستی بستی قریہ قریہ جاکر پیغام پہنچائیں گے، کراچی تا گلگت ظالمحکمرانوں سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور انشاءاللہ ظالم حکمرانوں کو اپنی وحدت کی طاقت سے شکست دیں گے۔علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ گلگت اور بلتستان میں آج جو شیعہ سنی وحدت کا انقلاب برپا ہوا ہے اس کی آواز پورے پاکستان میں گونجے گی اور وحدت کی یہ صدا عنقریب دشمن کی سازشوں کو ناکام کر دے گی، خطے میں امریکی اور سعودی برانڈ دہشت گردی دم توڑ رہی ہے اور امریکی سرمایہ سے پاکستان کو فرقہ واریت کی آگ میں لپیٹنے والے شیعہ سنی اتحاد دیکھ کر مایوس ہو رہے ہیں۔ ہرچند کہ پاکستان میں کالعدم دھشتگرد تنظیموں کی جانب سے ایک خاص مکتب فکر کے خلاف زہراگلنے اور دھشتگردانہ کاروائیوں کے باوجودسنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا کا کہنا ہےکہ پاکستان میں شیعہ سنی کا کوئی جھگڑا نہیں ہے، میں 22 سنی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ملکی سلامتی اور بقاء کی جنگ انشاءاللہ ہم مل کر لڑیں گے اور دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنا کرپاکستان کو امن اور سلامتی کا گہوارہ بنائیں گے، دہشت گردوں کا ہدف پاکستانی فورسز، علمائے اہل سنت، علمائے اہل تشیع ہیں، جو حقیقت میں پاکستان کا فطری دفاع ہیں۔پاکستان کےعوام کا کہنا ہے کہ پاکستا ن میں چاہے امریکہ کی طرف سے ڈرون حملے ہوں یا طالبان کی دھشتگردی یہ سب خاص مقاصد کیلئے ہیں اور یہ پاکستان اورپاکستانی عوام کے خلاف سازش ہے۔ جبکہ پاکستان کےوزیراعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ڈرون حملے ملکی سلامتی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں،پاکستان کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے،مجھے یقین ہے قوم اپنے عزم سے تمام چیلنجز پر قابو پالے گی ۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کو داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت گزرگیا جب فارن پالیسی ٹیلی فون کالز پر بناکرتی تھی۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ اے پی سی میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ امن کو ایک موقع دیا جائے،کوئی خون ریزی نہیں چاہتے، امن کو موقع دینا پڑے گا جبکہ پاکستانی حکومت کے زوایۂ نگاہ کے مطابق امریکہ پاکستان میں بحران کو مذاکرات کے ذریعے حل کۓ جانے کا خواہاں نہیں ہے اور اس نے ہمیشہ اس سلسلے میں پاکستان کی وفاقی حکومت کی کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی ہیں۔ یہی وجہ ہےکہ حکومت پاکستان کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کے اعلان کے بعد محسود کی ہلاکت کے خلاف پاکستانی حکومت نے اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کا نیا سربراہ کون بنتا ہے اور اگر طالبان کسی ایک نام پر متفق نہ ہوئے تو طالبان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گا اوراس دھڑے بندی کے بعد پاکستان کی حکومت کیلئے بھی مذاکرات کرنا دشوار ہو گا اس لئےکہ حکومت پاکستان کا اس ملک میں امن و امان کی بر قراری کے بارے میں خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہو گا کہ جب حکومت دھشتگردی کے خلاف بر وقت اور ٹھوس ایکشن لے کر کاروائی کرے۔
.......
/169