18 اکتوبر 2013 - 20:30
امریکی ڈرون حملے، بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت پر اقوام متحدہ کو تشویش

اقوامِ متحدہ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد میں عام شہریوں کی ہلاکت پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

ابنا: اقوامِ متحدہ  نے امریکہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے عام شہریوں کے اعداد و شمار کو منظرِعام پر لائے۔رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے رکاوٹوں کی وجہ سے ڈرون حملوں میں ہونے والے نقصانات اور عام شہریوں کی ہلاکت کا صحیح تخمینہ لگانا مشکل ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بین ایمرسن کے بقول پاکستانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ قبائلی علاقوں میں سال دو ہزار چار سے ہونے والے 330 ڈرون حملوں میں بائیس سو افراد ہلاک اور چھ سو شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ ہلاک ہونے والوں میں چار سو عام شہری شامل ہیں۔انسداد دہشت گردی اور انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بین ایمرسن کی اقوام متحدہ کے لیے یہ تحقیقاتی رپورٹ جمعہ کو جاری ہوئی ہے۔اقوامِ متحدہ نے پاکستان اور دیگر ملکوں میں ڈرون حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کی ہلاکت اور ٹارگٹ کلنگ پر تحقیقات جنوری سے شروع کی تھیں۔اس تحقیق کے دوران بین ایمرسن نے ڈرون حملوں کے لیے ذمہ دار امریکی افسروں سمیت ان ملکوں کے اہلکاروں سے بھی بات چیت کی ہے جن کی سرزمین پر امریکہ ڈرون حملے کرتا ہے۔اقوامِ متحدہ کے لیے اپنی رپورٹ کی تیاری کے دوران ابین ایمرسن نے ابتدائی معلومات جاری کی ہیں جن کے مطابق پاکستان، افغانستان اور یمن میں امریکی ڈرون طیاروں نے کم سے کم ساڑھے چار سو شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔صرف پاکستان میں امریکی جاسوس طیاروں کے حملوں میں کم سے کم چار سو شہری مارے گئے ہیں۔......./169