ابنا: شام کے باخبر ذرائع کاکہنا ہے کہ شام کی فوج سے فرار ہونے والے فوجیوں کی واپسی کا عمل بدستور جاری ہے۔ فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ فلسطین کی تحریک مزاحمت کو کمزور بنانے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ غاصب صہیونی حکومت نے بالآخر پچاس سال کی مبہم سیاست کے بعد ایٹم بم کے حامل ہونے کا دعویٰ کر دیا۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مرکز کوئٹہ میں نیو سریاب تھانے پر نامعلوم افراد نے دستی بم سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 8 افراد زخمی ہوگئے۔جن میں 4 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ نیٹو افواج 10 سال میں افغانستان میں امن اور استحکام لانے میں ناکام رہیں۔ اور نیٹو افواج کا افغانستان میں آپریشن سے ملک کو کافی نقصان پہنچا اور بے گناہ لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہوا ۔

جولائی کے مہینے میں فوج کے ہاتھوں محمد مرسی کو صدر کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے بعد سے مصر میں سینکڑوں اسلام پسند مظاہرین مارے جا چکے ہیں۔ گذشتہ دو ماہ کے دوران اخوان المسلمین کے ہزاروں اراکین کو حراست میں لیا گیا ہے۔ محمد مرسی کے ہزاروں کی تعداد میں حامی گلیوں میں نکل آئے اور تحریر اسکوائر کی جانب جانے کی کوشش کی اور جنرل السیسی کو قاتل پکارتے رہے۔ سکیورٹی فورسز نے ان کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا اور ہوائی فائرنگ کی۔ بعض مظاہرین گولیوں کا نشانہ بنے، جس کے جواب میں مظاہرین نے پولیس اور فوج پر پتھراؤ کیا۔ قاہرہ کی گلیوں میں گھنٹوں تک لڑائی جاری رہی۔ اس سے پہلے وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا تھا کہ 6 اکتوبر کو ہونے والی تقریبات کو خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔عرب اسرائیل جنگ کی یاد کے دن کے موقع پر سینکڑوں افراد تحریر اسکوائر میں جمع ہوئے۔ حکومت کی طرف سے 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ کی یاد میں دن منانے کے موقع پر سابق صدر محمد مرسی کے حامیوں نے ملک کے مختلف شہروں میں جلوس نکالے۔ دوسری جانب مصری حکومت نے فوجی ساز و سامان کی ایک بڑی نمائش لگائی۔ وہاں موجود ہجوم نے پرجوش انداز سے جہازوں کی پریڈ کا جواب دیا۔ ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں عبوری وزیرِاعظم نے مصری عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، جس کے لیے مصری عوام کو ایک ساتھ کھڑے ہونا چاہیے اور مستقبل کے بارے میں پرامید رہنا چاہیے۔ مصر میں معزول صدر مرسی کے حامیوں اور فوج کے درمیان جھڑپوں میں 51 افراد ہلاک اور250 زخمی ہوئے جبکہ423 افراد کو گرفتارکر لیا گیا۔یہ بات اب کسی پر پوشیدہ نہیں رہی کہ عالم اسلام کو مشکلات اور بحران سے دوچار کرنے میں امریکہ کا ہاتھ نمایاں ہے اور مسلمانوں کے تمام مصائب کا ذمہ دار بھی امریکہ ہے۔ لیکن اس بات کو ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ امریکہ تنہا یہ کام نہیں کرسکتا اور اسے کچھ ایسی قوتوں کی حمایت اور تعاون حاصل ہے کہ جو عام طور پر لوگوں کی نظروں سے اوجہل رہتی ہیں۔افغانستان، پاکستان، عراق، یمن، بحرین،شام اورمصرمیں امریکی ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے ملک کی حثیت سے سعودی عرب کا کردار اتنا عیاں ہو گیا ہے کہ کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ بحرین اور یمن میں تو آل سعود مردہ باد کے نعرے گونجتے رہے ہیں، اب مصر میں بھی لوگ سعودی عرب کے سفارتخانے کے باہر اجتماع کر کے سعودی سفارتخانے کے ساتھ اسرائیلی سفارتخانے والا رویہ اختیار کرنے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔آل سعود دراصل عالم اسلام میں نفاق اور افتراق کا ہدف لیکر ہی وجود میں آئے تھے اور اس خطے میں برطانوی سامراج کی مدد سے خاندان آل رشید کا خاتمہ کرنے کے بعد سے آج تک، اسی منحوس پالیسی پر کار بند ہیں۔ طالبان اور القاعدہ کی بھرپور حمایت اور مدد کے باوجود سعودی عرب کے امریکہ اور مغرب کے ساتھ تعلقات اعلٰی سطح پر قائم ہیں، جبکہ اسی حمایت کی عالم اسلام کو آج تک سزا دی جا رہی ہے۔ اسی بات سے آل سعود کے نفاق آمیز پالسیوں کا اندزہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ اگر آج سعودی عرب میں آل سعود کا خاتمہ ہو جائے تو مسلمانوں کے درمیان بہت سے مسائل اور اختلافات آن واحد میں ختم ہو جائیں۔خطے کی انقلابی تحریکوں اور ممالک سے متعلق سعودی عرب کے اقدامات اور موقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اس وقت سعودی عرب ان تمام ممالک پر دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں امریکہ کا آلۂ کار بن چکا ہے جن کو واشنگٹن اپنا دشمن جانتا ہے، یا جن ممالک میں امریکہ کے مفادات خطرے میں ہیں۔ سعودی عرب نے خطے کے عرب ممالک میں جاری انقلابی تحریکوں کو کچلنے کے لئے ان ممالک کے حکام کو بے تحاشا دولت سے نوازا ہے، لیکن شام کے سلسلے میں اس نے ایسا نہیں کیا ہے۔ریاض نے دوحہ کے ساتھ مل کر شام کے عوام کی حمایت کے بہانے اس ملک کے خلاف دشمنی کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور امریکہ کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے شام کے صدر بشار اسد کی حکومت کے ساتھ دشمنی کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اور جہاں تک عراق کا تعلق ہے تو سعودی عرب عراق کی عدالت اور پولیس کو مطلوب اس ملک کے نائب صدر طارق الہاشمی کو پناہ دے کر بغداد حکومت کو کمزور کرنے کے درپے ہے۔ طارق الہاشمی پر دہشتگردانہ واقعات میں ملوث ہونےکے الزام میں بغداد میں مقدمہ چلنا چاہۓ، لیکن سعودی عرب، قطر اور ترکی اسے عراقی حکومت کے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہیں۔سعودی عرب اس وقت معزول ڈکٹیٹروں کی پناہ گاہ بن چکا ہے۔ تیونس کا ڈکٹیٹر گزشتہ ایک برس سے سعودی عرب میں پناہ لئے ہوئے ہے۔ ریاض نے یمن کے معزول ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح کی میزبانی کے لئے بھی اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ بحرین میں بھی سعودی عرب آل خلیفہ کی حمایت کے ذریعے عملی طور پر عوامی انقلاب کا مقابلہ کر رہا ہے۔ بحرینی عوام کے قتل عام کے سلسلے میں سعودی عرب کے فوجیوں کی جانب سے آل خلیفہ کے فوجیوں کا ساتھ دیئے جانے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ ریاض بدستور خطے میں ڈکٹیٹروں اور ڈکٹیٹر حکومتوں کی حمایت کر رہا ہے۔اس وقت مصر بھی سعودی عرب کی سازشوں کی زد میں ہے حالانکہ سعودی عرب کے حکام خود اپنے ملک کے حالات سے بے خبر ہیں جہاں لاکھوں افراد نے آل سعود کی حکومت کے خلاف جاری جدوجہد کی حمایت کی ہے۔ آل سعود حکومت کے خلاف تحریک کہ جو انٹرنیٹ پر " ہماری تنخواہیں کافی نہیں ہیں" کے نام سے شروع ہو چکی ہے۔ اس تحریک میں سعودی عرب کے ایک کروڑ اسی لاکھ افراد نے آل سعود کے خلاف اس جدوجہد کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس انٹرنیٹ تحریک میں حصہ لینے والے شہریوں نے آل سعود حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور عوام کی معاشی مشکلات پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور اس صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔سعودی عرب دنیا کے امیر ترین ملکوں میں سے ایک ہے۔ لیکن اس کے باوجود اس ملک کی اکثریت غربت کا شکار ہیں اور لوگوں کی قوت خرید بہت ہی کم ہو گئی ہے۔ ادھر سعودی عرب کے شہر ریاض میں شیعہ عالم دین شیخ سلمان العلوان کو سزا سنائے جانے کے خلاف سینکڑوں افراد نے مظاہرے کئے اور انکی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ شیخ سلمان العلوان کو سن 2004 میں گرفتار کر کے جیل کے قید تنہائی میں رکھا گیا تھا اور اس مدت میں ان کو ان کے اہل خانہ سے ملنے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ جب سے سعودی عرب میں متعصب فرقہ وہابیت نے اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں، عالم اسلام بہت سے تلخ اور ناگوار واقعات کا شاہد رہا ہے۔ یہ منحرف اور متعصب فرقہ سعودی عرب کے تیل کی دولت اور مغربی ممالک کے مستکبرین کی حمایت کے نتیجہ میں پھیلا ہے۔دوسرے ممالک کے امور میں آل سعود کی واضح مداخلت کے سبب ہی بحرین، شام ،عراق اور مصر کے حالات کشیدہ ہو گئے اور سعودی عرب ان ممالک میں مزید جلتی پر تیل کا کردار ادا کر رہا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ مصری معاشرہ محمد مرسی کے خلاف مصری فوج کے کودتا اور مرسی کی قانونی حکومت کی برطرفی کے بعد شدید دھڑے بندی کا شکار ہوکر رہ گيا ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔
.....
/169