29 ستمبر 2013 - 20:30
عراق: شیعہ علاقوں پر دہشت گردانہ حملے، 13دھماکے، 60شہید اور 170 زخمی

عراق کے دارالحکومت بغداد کے مختلف علاقوں ميں ہونے والے کار بم دھماکوں اور دہشتگردي کے واقعات ميں درجنون افراد شہید اور زخمي ہوئے ہيں۔

عراق کے سيکورٹي ذرائع نے بتايا ہے کہ دارالحکومت بغداد کے شيعہ آبادي والے علاقے ميں متعدد دھماکے ہوئے ہيں۔ بغداد کا الصدر سٹي سب سے زيادہ دھماکوں کي زد ميں رہا جہاں کئي کار بم دھماکے ہوئے۔ اسپتال کے ذرائع کے مطابق 60 افراد شہید اور 170 زخمي ہوئے ہيں جن ميں سے کئي کي  حالت نازک ہے۔ مرنے والوں ميں زيادہ تر عام شہري ہيں جبکہ کئي ايک فوجي بھي مارے گئے ہيں۔

اتوار کي شام  بھي مرکزي عراق کے صوبے بابل شہر مسيب ميں ايک خودکش بمبار نے مسجد امام حسين ميں داخل ہوکر خود کو دھماکے سے اڑا ليا تھا۔ اس ميں حملے ميں باسٹھ افراد شہيد اور پچاس کے قريب زخمي ہوگئے تھے۔

دھماکہ اس وقت ہوا جب لوگ مجلس عزا ميں مصروف تھے۔ شمال مشرقي بغداد کے علاقے حسنيہ ميں ہونےو الے کار بم دھماکے ميں دو افراد جانبحق اور آٹھ ديگر زخمي ہوگئے تھے۔ عراق کے صوبے ديالہ ميں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں ميں چھے افراد جانبحق اور بيس زخمي ہوئے تھے۔ عراقي کردستان کے شہر اربيل ميں انٹيلي جينس کي عمارت کے سامنے ہونے والے کار بم دھماکے ميں چھے افراد جانبحق اور باسٹھ زخمي ہوئے تھے۔

عراقي صوبائي عہديدار نے القاعدہ کي ذيلي تنطيم دولت الاسلاميہ  في العراق والشام کو ان دھماکوں کو ذمہ دار قرار ديا ہے۔ مذکورہ دہشتگرد گروہ  نے بھي ان حملوں کي ذمہ داري قبول کرلي ہے۔ دھماکوں کو بعد صوبہ اربيل ميں حفاظتي انتظامات سخت کرديئے گئے ہيں۔ يہ دھماکے عراقي کردستان کے پارليماني انتخابات ميں مسعود بارزاني کے قيادت والي کردستان ڈيموکريٹ پارٹي کي بھاري اکثريت سے کاميابي کے بعد ہوئےہيں ۔

.....

/169