27 ستمبر 2013 - 20:30
صدر روحانی کی کئی ممالک کے حکام سے ملاقاتیں (باتصویر)

صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحاني نے نيويارک ميں اپنے قيام کے چوتھے روز متعدد ملکوں کے اعلي رتبہ حکام سے ملاقات اور گفتگو کي ہے۔

ابنا: جاپان کے وزيراعظم شنزوآبے کےساتھ ملاقات ميں صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے ايک بار پھر ايران کے اس موقف کا اعادہ کيا ہے کہ تہران کا جوہري پروگرام پرامن ہے اور ہماري تمام جوہري سرگرمياں عالمي ادارے کے نگراني ميں انجام پا رہي ہيں۔ صدر نے اميد ظاہر کي کہ ايران کے جوہري معاملے کو بہت جلد حل کرليا جائےگا جبکہ تہران کے خلاف عائد کي جانے والي غير قانوني پابندياں بھي جلد اٹھالي جائيں گي۔

صدر مملکت نے شام کے امور ميں اقوام متحدہ کے خصوصي نمائندے اخضر ابراہيمي سے بھي ملاقات اور گفتگو کي اور اس بات پر زور ديا کہ شام ميں جاري خون خرابہ اور جنگ کي روک تھام کے لئے فوري اور ٹھوس اقدامات کئے جائيں۔انہوں نے کہا اسلامي جمہوريہ ايران بحران شام کے حل ميں ہرممکن مدد اور تعاون کے لئے تيار ہے۔اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر نے ہسپانوي وزيراعظم ماريانو راخوے سے بھي ملاقات کي جس ميں ايران کي پرامن جوہري سرگرميوں کے بارے ميں تبادلہ خيال کيا گيا۔ اس ملاقات ميں صدر حسن روحاني نے واضح کيا کہ ايران نے اپنے جوہري پروگرام کے حوالے سے  عالمي معياروں کے مطابق عمل کيا ہے اور کر رہا ہے تاہم ايران اپنے حقوق کے تحفظ کي بيناد پر عالمي برادري کي تشويش دور کرنے کے لئے تيار ہے۔

صدر حسن روحاني نے ايران کے خلاف عائد کي جانے والے پابنديوں کو اندھي پابنديوں سے تعبير کيا اور يہ بات زور ديکر کہي کہ آج پابندياں لگانے والوں کو اچھي طرح اندازہ ہوگيا ہے کہ  پابنديوں کے الٹے نتائج برآمد ہوئے ہيں۔ايران کے چيف ايگزيکيٹو نے نيويارک ميں يورپي يونين کونسل  کے سربراہ ہرمين وان ريمپوے سے بھي ملاقات اور گفتگو کي۔ صدر نے اس ملاقات ميں واضح کيا کہ ايران کے پاس جوہري پروگرام کے حوالے سے چھپانے کے لئے کچھ نہيں ہے  ۔

صدر نے ايک بار پھر کہا کہ ايران کي دفاعي حکمت عملي ميں ايٹمي ہتھياروں کي کوئي گنجائش نہيں ہے۔ ڈاکٹر حسن روحاني نے ايراني عوام کے خلاف بعض ملکوں کےغير قانوني اقدامات کي جانب اشارہ کرتے ہوئے واضح کيا کہ اس طرح کے اقدامات سے باہمي اعتماد اور تعلقات ميں کمي واقع ہوتي ہے۔

اطالوي وزيراعظم اينريکو ليٹا  کے ساتھ ملاقات ميں صدر حسن روحاني نے کہا کہ ايران کي توانائي کے شعبے پر عائد کي جانے والي پابنديوں کا پرامن جوہري سرگرميوں پر کوئي اثر نہيں پڑا ہے۔ صدر ڈاکٹر حسن روحاني نے بحران شام اور خانہ جنگي کي وجہ سے عوامي مشکلات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردي کے مقابلے کے لئے خطے کے تمام ملکوں کو ايک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا۔ صدر ايران کا کہنا تھا کہ يورپي يونين کے ايک رکن کي حيثيت سے اٹلي بھي ايران کے جوہري معاملے کے حل ميں اہم کردار ادا کرسکتا ہے.

.......

/169