ابنا: ایرانی وزیر خارجہ نے فیس بک پر اپنے ایک مطلب میں لکھا ہے کہ انھوں نے ایرانی عوام کے حقوق کی حفاظت کے لئے اس اجلاس میں جو نکات پیش کئے ہیں انھیں وقت آنے پر بیان کریں گے ظریف نے کہا کہ ہم نے ثابت کردیا ہے کہ ایرانی حقوق سے پیچھے ہٹنے کے بغیر بھی مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ظریف نے کہا کہ گروپ ایک + پانچ کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نظارت میں ایران کے یورینیم افزودہ کرنے کے حق کو تسلیم کرنا چاہیے ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی وزير خارجہ کے ساتھ گفتگو مثبت رہی اور گفتگو کے ذریعہ مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی وزير خارجہ سے ایرانی وزير خارجہ کی یہ پہلی ملاقات ہےجسے مثبت قراردیا جارہا ہے البتہ ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات نہیں کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ان کا امریکی صدر سے ملاقات کا پہلے سےکوئی پروگرام نہیں تھا ۔امریکہ ، ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں حقیقت سے قریب آرہا ہے اور امریکہ پر واضح ہوگیا ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے لیکن وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو ایران پر دباؤ قائم کرنے کے لئے صرف بہانہ بنا رہا ہے لیکن ایران نے آج تک ہر سطح پر امریکی دباؤ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اب ایران فتح کے قریب پہنچ رہا ہے۔
.......
/169