22 ستمبر 2013 - 20:30
صدر: ایران انسانی اخلاقی اور اسلامی بنیادوں پر شام کی مدد کررہا ہے اور کرتا رہے گا

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے این بی سی کے ساتھ گفتکو میں کہا ہے کہ ایران، انسانی اخلاقی اور اسلامی بنیادوں پر شام کی مدد کررہا ہے اور ایرانی امداد میں غذائی اور طبی ساز و سامان شامل ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجۃ الاسلام و المسلمین جناب حسن روحانی نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کے ساتھ گفتکو میں شام کے بحران کو مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ، انسانی اخلاقی اور اسلامی بنیادوں پر شام کی مدد کررہا ہے اور ایرانی امداد میں غذائی اور طبی ساز و سامان شامل ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ بعض ممالک اعلانیہ طور پر شام میں القاعدہ سے وابستہ دہشت گردوں کو ہتھیار فراہم کررہے ہیں جبکہ بعض دیگر ممالک شامی حکومت کو بھی ہتھیار فروخت کررہے ہیں۔ صدر روحانی نے کہا کہ ایران تمام اقوام اور ممالک کے ساتھ دوستی اور محبت کی فضا میں روابط قائم کرنا چاہتا ہے۔ صدر روحانی نے شام کے بحران اور علاقہ میں ایک نئی جنگ چھڑنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران 8 سال تک جنگ کی تباہ کاریوں کا سامنا کرچکا ہے اور اس حساس علاقہ میں اس سے قبل کئی جنگیں ہوچکی ہیں اور اب یہ حساس علاقہ کسی اور جنگ کو تحمل نہیں کرسکتا انھوں نے کہا کہ اگر شام پر ظالمانہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کا دائرہ وسیع ہو جائے گا اور یہ جنگ پورے علاقہ میں پھیل جائے گی۔

امریکی نامہ نگار نے امریکی صدرباراک اوبامہ کی طرف سے شام پر ہوائی حملہ نہ کرنے کو بعض ممالک کی نظر میں امریکی صدر اوبامہ کمزوری قراردیتے ہوئے صدر روحانی سے سوال کیا کہ آپ کا نظریہ اس سلسلے میں کیا ہے؟

ایرانی صدر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جنگ نہ کرنا کمزوری کی دلیل نہیں بلکہ جنگ کرنا کمزوری کی دلیل ہے اور ہم ہر اس حکومت کو کمزور سمجھتے ہیں جو جنگ کا فیصلہ کرتی ہے اور ہر اس حکومت کو عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں جو دنیا میں امن و صلح کی تلاش و کوشش کرتی ہے۔

نامہ نگار نے پوچھا بعض امریکی اور بعض دیگر ممالک اوبامہ کو کمزور سمجھتے ہیں آپ کی رائے کیا ہے؟ صدر روحانی نے کہا کہ میں کسی شخص یا امریکی حکومت کے بارے میں کوئی فیصلہ یا قضاوت نہیں کرسکتا لیکن مجھے اس بات پر خوشی ہے کہ جنگ شروع نہیں ہوئی۔

صدرروحانی نے ایران کے ایٹمی بم سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف ہےاور ایران پوری دنیا سے ایٹمی ہتھیاروں کو پاک کرنے کا خواہاں ہے ایرانی عوام کو ایٹم بم کی ضرورت نہیں ایرانی قوم کے پاس ایمانی طاقت ہے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے ایرانی قوم کی یہی طاقت کافی ہے انھوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی پروگرام بالکل پرامن مقاصد کے لئے ہے اور ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کے سلسلے کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری رکھےگا۔

.......

/169