14 ستمبر 2013 - 19:30
مبارک کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران میڈیا کوریج پر پابندی

مصر کی ایک عدالت نے معزول جابر حسنی مبارک کے مقدمے کی دوسرے مرحلے کی سماعت کے دوران میڈیا کی موجودگی اور کوریج پر پابندی لگا دی۔

ابنا: مقدمے کی سماعت کرنے والے جج محمود الرشیدی نے اس پابندی کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انیس سے اکیس اکتوبر کے درمیان ہونے والی سماعت میں قومی سلامتی کے امور پر بات ہو گی۔مصر کے سابق جابر حسنی مبارک، ان کے دو بیٹوں، سابق وزیر داخلہ اور چھ سیکیورٹی چیف کے خلاف 2011 میں عوامی تحریک کے دوران 900 مظاہرین کے قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔  پچھلے سال جون میں مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں مبارک کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی جس سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد ان کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا گیا تھا۔جج محمود الرشیدی نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کو شفاف رکھنے کا وعدہ کیا تھا مگر ہفتے کو ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی صحافی کو اگلی سماعت میں آنے کے اجازت نہیں ہو گی اور وکلا کے بیانات بھی شائع نہیں کیے جائیں گے۔واضح ہو کہ مصر میں عوامی تحریک کے بعد گزشتہ سال منعقد ہونے والے پہلے آزادانہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے صدر محمد مرسی کی حکومت کا فوج نے تختہ پلٹ دیا تھا۔محمد مرسی کی حکومت معزول ہونے کے کچھ عرصے بعد حسنی مبارک کو رہا کر کے ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔......./169