27 اگست 2013 - 19:30
روس کے سولہ بحري جنگي جہاز شام کے خلاف امريکا کي فوجي کاروائي کي راہ ميں رکاوٹ

بحيرہ روم ميں روس کے سولہ بحري جنگي جہاز شام کے خلاف امريکا کي فوجي کاروائي کي راہ ميں رکاوٹ بن سکتے ہيں۔

ابنا: امريکا نے بحيرہ روم ميں چار بحري جنگي جہاز تعينات کرديئےہيں اور ہامان بحري جنگي جہاز کو  جو پچھلے ہفتے اپنے اڈے پر واپس لوٹ جانےوالا تھا ہرقسم کي ممکنہ فوجي کاروائيوں کو انجام دينے کے لئے بحيرہ روم ميں ہي موجود رہنے کا حکم ديا گيا ہے ۔دوسري جانب برطانوي شاہي بحريہ نے بھي ايچ ايم ايس بحري جنگي جہاز جو ہيلي کاپٹر بردار بھي ہے بحيرہ روم کي طرف روانہ کردياہے ۔ جواب ميں روس نے  بھي اپنے سولہ بحري جنگي جہاز بحيرہ روم ميں تعينات کرديئے ہيں اور اس کي تين آبدوزيں بھي اس علاقے ميں موجود ہيں ۔ہرچـند کہ شام کي بحريہ کسي بھي طرح کے ممکنہ فوجي حملے کا مقابلہ کرنے کي توانائي رکھتي ہے  ليکن شام کي ميزائلي قوت  امريکي بحري جنگي جہازوں کے لئے سنگين خطرہ بن سکتي ہے ۔ روس نے اسکندر نامي ميزائيل شام کو ديئے ہيں جو ساحل سے سمندر کے اندر بحري جنگي جہازوں کو پوري دقت کے ساتھ نشانہ بنا سکتے ہيں ۔ واضح رہے کہ امريکا اور اس کے اتحادي ان دنوں کوشش کررہے ہيں کہ شام ميں فوجي مداخلت کا راستہ ہموار کريں ۔

.......

/169