23 اگست 2013 - 19:30
لبنان دھماکے 42 جاں بحق، سی سی ٹی وی فوٹیج

لبنان کے شہر طرابلس میں مساجد کے نزدیک ہونے والے دو بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم بیالیس افراد جاں بحق اور پانچ سو افراد زخمی ہوگئے۔

ابنا: ذرائع کے مطابق ملک کے دوسرے بڑے شہر طرابلس پہلا دھماکہ مسجد التقویٰ کے باہر ابو علی اسکوائر میں اس وقت ہوا، جب نمازی نماز جمعہ کے بعد مسجد سے خارج ہو رہے تھے۔ یہ مسجد لبنان کے سابق وزیراعظم نجیب میقاتی کے گھر کے نزدیک واقع ہے۔ اس کے پانچ منٹ بعد مینا کے علاقے میں واقع مسجد السلام کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مسجد لبنان کی پولیس کے سابق سربراہ اشرف رفی کے گھر کے نزدیک واقع ہے۔ مسجد التقویٰ کے نزدیک ہونے والے بم دھماکے میں پانچ بچوں سمیت چودہ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہوئے، جبکہ مسجد السلام کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔  لبنان کی وزارت داخلہ کے مطابق مسجد السلام کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں سو کلوگرام سے زیادہ دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ لبنان کی ریڈ کریسنٹ کے مطابق ان دونوں دھماکوں میں پانچ سو سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ اطراف میں کھڑی گاڑیوں اور نزدیک املاک کا بھی شدید نقصان ہوا ہے۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ان دھماکوں کے بعد شدید فائرنگ بھی کی گئی۔ لبنان کی تحریک مزاحمت حزب اللہ نے طرابلس میں ہونے والے خونی بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ہے۔ لبنان کی اہم شخصیات کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے جنوبی لبنان کے شیعہ نشین علاقے ضاحیہ میں ہونے والے کار بم دھماکے کے بعد طرابلس کے سنی نشین علاقے میں اسی طرح کے کار بم دھماکے کسی مشترکہ دشمن کی کارروائی ہے۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ بظاہر ان دھماکوں میں جو بھی ملوث ہو، اسکا فائدہ امریکہ اور اسرائیل ہی اٹھائیں گے۔ لبنان کے ہمسایہ ملک شام میں جاری جنگ کے اثرات لبنان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور یہاں مقیم شیعہ علوی اور سنی مسلک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق لبنان کے سنی مسلک کے سب سے نمایاں مذہبی رہنما شیخ سلیم رافعی مسجد التقویٰ میں نماز کے لئے آتے ہیں۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ شیخ رافعی دھماکے کے وقت مسجد میں موجود تھے کہ نہیں۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں دھماکے کے بعد گاڑیوں کو آگ لگی ہوئی تھی اور لوگ زخمی افراد کو اٹھا کر گلی میں بھاگ رہے تھے۔ دیگر ذرائع کے مطابق لبنان کے شہر طرابلس میں دو مسجدوں کے باہر ہونیوالے دو کار بم دھماکوں میں بیالیس افراد جاں بحق اور پانچ سو زخمی ہوگئے، ایک دھماکہ لبنان کے سابق وزیراعظم نجیب میقاتی کی رہائش گاہ کے قریب ہوا۔ لبنان کے شہر طرابلس میں مساجد کے باہر ہونیوالے دو کار بم دھماکوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی گئی، یہ دونوں دھماکے پانچ منٹ کے وقفے سے اس وقت ہوئے جب نمازی جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے بعد مساجد سے خارج ہو رہے تھے۔ دھماکوں میں بیالیس افراد جاں بحق اور تین سو اٹھاون زخمی ہوئے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، پولیس کے مطابق پہلا بم دھماکا ابو علی اسکوائر میں التقویٰ مسجد کے قریب ہوا۔ دھماکے کے وقت مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، دوسرا دھماکہ طرابلس کے مرکزی مقام منٰی میں السلام مسجد کے باہر کیا گیا۔ دھماکے اتنے شدید تھے کہ شہر لرز اٹھا اور آسمان پر دھوئیں کے بادل چھا گئے اور ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ ادھر اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے بیروت پر حملہ کیا، حملہ لبنانی دارالحکومت بیروت کے جنوبی حصے میں کیا گیا، جسے لبنانی تنظیم حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ جمعہ کی صبح اسرائیلی طیاروں نے ایک ٹارگٹ کو نشانہ بنایا، حملے میں کسی شخص کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاع نہیں، تاہم حملے کے بعد لبنانی حکومت نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے.

.......

/169