16 اگست 2013 - 19:30
پندرہ وزراء کو اعتماد کا ووٹ، تین کی اہلیت مسترد (باتصویر)

ايران کي پارليمنٹ مجلس شورائے اسلامي نے چار روز کي بحث کے بعد صدر روحاني کی مجوزہ کابنيہ کے پندرہ وزيروں کو اعتماد کا ووٹ دے ديا ہے-

ابنا: پارلمينٹ کے ارکان نے جمعرات کے روز صدر روحاني کي مجوزہ کابينہ کے ارکان کي اہليت کے بارے ميں بحث مکمل کرلي جس کے بعد رائے شماري کے ذريعے ايک ايک وزير کے بارے ميں ايوان سے رائے طلب کي گئي گي-
ارکان نے خفيہ رائے شماري کے ذريعے اپنا حق رائے دہي استمعال کرتے ہوئے پندرہ وزارء کو اعتماد کا ووٹ ديا-  پارليمنٹ کي جانب سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے والے پندرہ وزارء آج سے اپنے عہدوں کا باضابطہ چارج سنبھال ليں گے-
صدر روحاني کي کابينہ کے جن ارکان نے ايوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرليا ہے ان ميں وزير مواصلات و انفارميشن ٹيکنالوجي محمود واعظي، وزیرانٹيلي جينس سيد محمود علوي، وزير اقتصاديات علي طيب نيا، وزير خارجہ کے لئے محمد جواد ظريف، وزير صحت حسن قاضي زادے ہاشمي، وزير محنت اور فلاح و بہبود علي ربيعي، وزير زارعت محمودحجتي، وزيرانصاف مصطفي پور محمدي، وزير دفاع حسن دھقان، وزير تعميرات عباس آخوندي، وزير صنعت و معدنيات و تجارت محمد رضا نعمت زادے، وزير ثقافت و ارشاد اسلامي علي جنتي، وزير داخلہ عبدالرضا رحماني فضلي، وزير پيٹروليم بيژن نامدار زنگنے اور وزير توانائي جميد چيت چيان شامل ہيں-
صدر حسن روحاني نے وزارت تعليم کے لئے محمد علي نجفي، وزارت سائنس و ٹيکنالوجي کے لئے ميلي منفرد اور وزارت کھيل اور امور نوجواناں کے لئے مسعود سلطاني فر کو نامزد کيا تھا تاہم ايوان نے مذکورہ تينوں وزيروں کے اہليت کي توثيق نہيں- صدر تين ماہ کے اندر اندر مذکورہ تينوں محکموں کے لئے نئے نام پيش کرنے کے مجاز ہوں گے۔

.......

/169