15 جولائی 2013 - 19:30
بوسنیا: مسلمانوں کی نسل کشی کو اٹھارہ برس بیت گئے

بوسنیا ھرزگوئینہ کے مسلمان ، سربرنیسٹا ميں نسل کشی کی اٹھارہويں برسی کی آمد کے موقع پر اس عظیم انسانی المیہ کی بھینٹ چڑھنے والوں کا ایک بار پھر سوگ منا رہے ہيں.

ابنا: دسیوں ہزار بوسنیائی ، ہر سال اس ملک کے مختلف علاقوں سے گیارہ جولائی کو سربرنیسٹا آتے ہیں تاکہ یورپ اور دنیا میں رونما ہونے والے ایک  بڑے واقعے کی یاد منائيں ۔ اس ہولناک واقعے کو اٹھارہ سال کا عرصہ گذر جانے کے با وجود ابھی بھی اس واقعے کی بھینٹ چڑھنے والے بہت سے افراد کی یا تو شناخت نہيں ہوسکی ہے یا ان کی لاشوں کا پتہ نہيں چل سکا ہے ۔ ہرسال صربوں کے ہاتھوں سربرنیستا میں نسل کشی کی بھینٹ چڑھنے والوں کی یاد میں منعقد ہونے والے سالانہ مراسم کے ساتھ ہی ، باقی افراد کی لاشوں کو بھی شناخت کے بعد سپرد خاک کیا جاتا ہے ۔ اس سال بھی چارسو سے زائد  افراد کی لاشوں کو سپرد خاک کیا گیا ۔  1992 سے 1995 کے دوران ، جارح صربوں کے ہاتھوں ہرز گوئینہ کے مسلمانوں کی نسل کشی کاواقعہ انتہائی تلخ و ناگوار ہے ۔ بوسنیہ کے جارح صربوں نے ساڑھے تین برسوں میں ایک لاکھ سے زائد بوسنیہ ہرزگوئینہ کے مسلمانوں کا بدترین حالات میں قتل عام کیا ۔ زخمیوں کا سر کاٹنا ، ان کے بدن پر چاقو سے صلیب کے نشان بنانا ، حاملہ عورتوں کا شکم چاک کرکے جنین کو باہر نکالنا اور زندہ جنینوں کو  فٹبال بنا کر کھیلنا ، مسلمان والدين یا والد کو ، شراب کے ساتھ ان کے  بچوں کا خون پلانا ، الکحل یا پٹرول مسلمانوں کے منھ ميں انڈیلنا اور ان کو آگ لگا دینا ، اور مسلمان لڑکیوں اور خواتین کی اجتماعی عصمت دری ، ظالم صربوں کے بعض جارحانہ اقدام شمار ہوتے ہیں ۔ لیکن اس درمیان سربرسنیٹا ميں صربوں کی جارحیت عروج پر تھی ۔ اسی سبب سے بوسنیہ کے مسلمان ہر سال ایک غم انگیز مراسم کا انعقاد کرکے سربرنیسٹا کے مسلمانوں کی یاد مناتے ہیں ۔ سربرنیسٹا کے مسلمانوں کی یاد میں منعقد ہونے والے مراسم ، صربوں کے جارحانہ اقدامات کی یاد دلاتے اور ان جارحانہ کاروائیوں سے مغربی حکومتوں کی عدم توجہ کی علامت ہيں ۔ سربرنیسٹا کا واقعہ ، اگرمسلمانوں کی نسل کشی میں صربوں کی جارحیت کا نقطۂ عروج ہے تو ان واقعات کے حوالے سے مغربی حکومتوں کی عدم توجہی کا بھی نقطۂ عروج ہے ۔ سربرنیسٹا کی ٹریجڈی ، بوسنیائی جنگ کے اختتامی مہینوں میں انجام پائي ۔ یورپی حکومتیں جانتی تھيں کہ سربرنیسٹا کے عوام کو ایک دردناک سرنوشت کا سامنا کر نا پڑسکتا ہے لیکن انہوں نے ان جارحانہ اقدامات کی  روک تھام کے لئے نہ صرف کوئي اقدام نہيں کیا بلکہ صربوں کے ساتھ اس جارحیت ميں  ان کا ساتھ بھی دیا ۔ اس سلسے ميں برطانیہ ، فرانس ، ھالینڈ اور اسی طرح اقوام متحدہ کے اس وقت کے حکام نے بھی انتہائی افسوسناک کردار کیا ۔  در حقیقت بوسنیہ و ہرزگوئینہ کے مسلمانوں کی نسل کشی مکمل طور پر پلاننگ سے انجام پائی ۔ سویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد یوگسلاویہ بھی تقیسم کے دھانے پر پہنچ گيا ۔ یوگوسلاویہ کی بھی چھ جمہوریائیں آزادی  واستقلال چاہتی تھیں ۔ اس اثنا ميں اس وقت کا صربستان کا صدر اسلوبودان میلوشویچ بدستور طاقت کے زور پر اور جنگ چھیڑنے کے مقصد سے یوگسلاویہ کی تقسیم کی روک تھام کر رہا تھا ۔ سابق یوگسلاویہ کی چھ حصوں ميں تقسیم کے واقعے کے بعد کا جائزہ لینے سے ہم یہ درک کرتے ہيں کہ عیسائي اکثریت والی جمہوریاؤں کی بہ نسبت ، مسلمانوں کی اکثریت والی جمہوریائوں  بوسنیہ اور ہرزگوئينہ کی آزادی کے بعد، ان جمہوریاؤں کو بہت زیادہ جانی اور مالی نقصانات اٹھانے پڑے ہيں ۔ کسی بھی عیسائی اکثریت والی آبادی میں ایسے واقعات رونما نہيں ہوئے اور ان جمہوریا‎‎ؤں میں آزادی حاصل کرنے کا عمل اس حد تک تشدد آمیز ماحول ميں انجام نہیں پایا ۔ اسلوانیہ ، دس دن کی لڑائی کے بعد صربستان سے آزاد ہوگیا ۔ صربیہ کی فوج ، کروشیہ سے تین مہینے جنگ کرنے کے بعد پسپا ہوگئی ۔  مقدونیہ کو کسی جنگ اور لڑ ائی کے بغیر ہی آزادی مل گئی ۔ لیکن بوسنیہ و ہرز وگوئینہ کے مسلمانوں کو ساڑھے تین سال تک ایک بے رحمانہ جنگ سامنا کرنا پڑا  جس ميں انہیں ایک لاکھ سے زائد افراد کی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑا اور تقریبا بیس لاکھ بے گھر افراد نے بالقان کے علاقے ميں اپنے تشخص کا تحفظ کیا ۔ اسی بنا پر بو سنیہ و ہرززگوئینہ کے مسلمان ، یورپی حکومتوں کو صربوں کے ہاتھوں ہزاروں بے گناہ افراد کے قتل عام  کے جرم میں برابر کا شریک قرار دے رہے ہیں ۔ اور یہ ایک ایسا ننگ و عار ہے جو  انسانی حقوق کے یورپی دعویداروں کی پیشانی سے کبھی بھی مٹ نہیں سکتا ۔ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم جان میجر نے صراحتا اس نکتے پر تاکید کی تھی کہ وہ اس بات کی اجازت نہيں دیں گے کہ کوئی مسلمان ملک یورپ ميں تشکیل پائے ۔ یہ اظہار خیال در حقیقت بوسنیہ و ہرزگوئینہ کے مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے صرب جارحین کو ہری جھنڈي دکھانے کے مترادف تھا ۔نیٹو ميں 1993 سے 1998 کے برسوں میں امریکہ کے سابق سفیر رابرٹ ہنٹر نے فائننشل ٹائمز ميں ایک مضمون میں لکھا کہ نیٹو ، برطانیہ کی خلاف ورزی اور مانع تراشی کے سبب سربرنیسٹا کے واقعے کی روک تھام نہيں کرسکا  ۔ البتہ اس طرح کے بیانات اگرچہ  سربرنیسٹا کا واقعہ رونما ہونے میں مغربی حکومتوں کے کردار کو واضح کرتے ہیں ساتھ ہی بعض مغربی حکومتوں  اور ان میں سر فہرست امریکہ کی ، سربرنیسٹا کے واقعے سے خود کو بری رکھنے کی کوششیں بھی نمایاں  ہوجاتی ہيں ۔  سربرنیسٹا اس زمانے ميں اقوام متحدہ کے توسط سے سکورٹی زون  اعلان کیا گیا تھا اور  اقوام متحدہ کے چھ سو سپاہی  اس شہر کی حفاظت کر رہے تھے ۔ سربرنیسٹا کے باشندوں کی تعداد بارہ ہزار تھی لیکن بوسنیہ کے دیگر علاقوں کے پناہ گزیں بھی اس بنا پر کہ سربرنیسٹا اقوام متحدہ کی جانب سے پر امن شہر اعلان کیا گیاتھا اس شہر ميں پناہ گزیں ہو گئے اور اس شہرکی تعداد چالیس ہزار تک پہنچ گئی ۔ پناہ گزيں بوسنیائي مسلمان یہ تصور کر رہے تھے کہ اقوام متحدہ کی فورسیز صربوں کی یلغار کےمقابلے میں ان کی حمایت کریں گی لیکن ان کی توقع کے برخلاف نہ صرف ان کی مدد نہيں کی اور صربوں کے مقابلے ميں مزاحمت نہيں کی بلکہ بعض مسلمانوں کوگرفتار کرکے صرب حملہ آوروں کے کمانڈر راتکو ملادیچ کے حوالے کردیا ۔ صربوں نے سر برنیسٹا پر مکمل قبضے بعد بارہ سال سے بہتر سال تک کے آٹھ ہزار چار سو نوجوانوں اور مردوں کا قتل عام کیا اور ان کو ایک اجتماعی قبر میں دفن کردیا ۔ بوسنیہ کی جنگ کے بعد سربرنیسٹا کے واقعے کی روک تھام کرنے میں مغربی حکومتوں کی کوتاہی اور ان کا کردار سامنے آنے کے بعد ہالینڈ اورفرانس ميں شکایتیں درج کرائی گئیں اور اس حوالے سے تحقیقاتی کمیٹیاں  بھی تشکیل دی گئیں اور ان کمیٹیوں نے اپنی تحقیقات ميں بوسنیہ کے مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام ميں مغربی حکومتوں اور اقوام متحدہ کی کوتاہی کی تائید و تصدیق کی ۔ اس رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد ہالینڈ کی حکومت گرگئي ۔ اقوام متحدہ کے سابق جنرل سکریٹری کوفی عنان نے اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی کوتاہی کو تسلیم کیا اور اس پر اظہارافسوس بھی کیا ۔ اگرچہ سربرنیسٹا کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف ہیگ کی عدالت ميں مقدمات جاری ہيں اور ابھی ان کے خلاف کسی سزا کا بھی تعین نہیں ہوا ہے تاہم بوسنیائی مسلمانوں کی حقانیت اقوام عالم پر آشکار ہوگئی ہے ۔ آخر کار جو عناصر بالقان کے نقشے سے بوسنیائی مسلمانوں کو ختم کرنے کے درپے تھے وہ اپنا ہدف حاصل نہيں کرسکے ۔  جو واقعہ سربرنسٹا میں پیش آیا وہ یورپ میں انسانی حقوق کے دعویداروں کی بلیک لسٹ ميں ثبت ہوگیا ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کی مزاحمت نے انہيں حذف کرنے کے لئے صربوں اور ان کے حامیوں کی ناکامی کو ثابت کردیا ۔ مجموعی طور پر جو افراد اس نسل کشی کے بانی تھے وہ یہ تصور کر رہے تھے کہ اب کام تمام ہوچکاہے اور انہيں مسلمانوں کو اس علاقے سے ختم کرنے کے ہدف ميں کامیابی مل چکی ہے ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ مسلمانوں کو نابو د کرنے کا ان کا ہدف ناکام ہی رہا ۔ یقینا ظالموں کو شکست اور ذلت دینے کا خدا کا وعدہ سچاہے  آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یورپ پر حکمراں معیارات کے ساتھ اس واقعے کے بانیوں اور قاتلوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور اگرچہ اس میں تاخیر ضرور ہوئی تاہم اٹھارہ سال کے بعد سربرنیسٹا کے واقعے کا قصاب ، رادوان  کارادزیچ اور اس نسل کشی کی کاروائیوں کے کمانڈر راتکو ملادیچ کو بین الاقوامی عدالتوں ميں مقدموں کا سامنا کرنا پڑا  ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ بوسنیائی مسلمانوں نے اس ملک کے سیاسی معاملات ميں اپنے فیصلہ کن اور موثر کردار کا تحفظ کیا ہے - ......./169