13 جولائی 2013 - 19:30
معزول مصری صدر کے خلاف الزامات کی تحقیقات کا اعلان

مصر میں پبلک پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ وہ فوجی بغاوت میں برطرف کیے جانے والے صدر محمد مرسی کے خلاف جاسوسی، مظاہرین کو تشدد کے لیے اکسانے، فوجی بیرکوں پر حملہ کرنے اور ملکی معیشت کو نقصان پہچانے کی موصولہ شکایتوں کی تحقیقات کر رہا ہے.

ابنا: ہفتہ کے روز پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر نے ایک بیان جاری کر کے کہا ہے کہ اسے محمد مرسی اور اخوان المسلیمن کے سپریم لیڈر محمد بدیع سمیت آٹھ رہنماؤں کے خلاف شکایات موصول ہوئی ہیں۔پبلک پراسیکیوٹر نے یہ واضح نہیں کیا ہے کہ یہ شکایات کس نے دائر کی ہیں۔محمد مرسی کو رواں ماہ کے آغاز میں فوج نے اقتدار سے علیحدہ کر دیا تھا۔ فوج کا کہنا ہے کہ اس نے محمد مرسی کو ہٹانے کا فیصلہ لاکھوں لوگوں کے احتجاج کے بعد کیا ہے۔محمد مرسی کو اقتدار سے علیحدگی کے بعد نظر بند کیاگیا لیکن ان کی جماعت ان کی رہائی کے لیے ملک گیر احتجاج کر رہی ہے جن میں اب تک درجنوں افراد مارے جا چکے ہیں۔ اخوان المسلمین نے ایک بار پھر پیر کے روز احتجاج کی کال دی ہے۔در ایں اثناء مصر کی فوج پر محمد مرسی کو آزاد کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ شکایات کی تحقیقات کا مقصد مواد اکھٹا کرنا ہے جس کی بنیاد پر ملزمان سے تفتیش کی جا سکے گی۔دفتر کے مطابق جن افراد کے خلاف شکایات ہیں ان میں محمد مرسی کے علاوہ اخوان المسلمین کے رہنما محمد بدیع اور پارٹی کے سیاسی ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر اعصام العریان سمیت کئی سینیئر رہنما شامل ہیں۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ مصری حکام کی جانب سے یہ اقدام عبوری حکومت اور اخوان المسلمین کے درمیان مفاہمت کے کسی بھی طرح کے امکانات کو مزید کمزور کر دے گا۔...../169