8 جولائی 2013 - 19:30
پاکستان میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے بعض نکات

اکستان میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے بعض نکات سامنے آئے ہیں کمیشن رپورٹ کے مطابق ایبٹ آبادآپریشن میں امریکی سیلرزکوگراوٴنڈ سپورٹ فراہم کی گئی جبکہ صدرزرداری،یوسف رضاگیلانی اورآرمی چیف جنرل کیانی نے اپنابیان نہیں دیا۔

ابنا: پاکستان میں ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ کے بعض نکات سامنے آئے ہیں کمیشن رپورٹ کے مطابق ایبٹ آبادآپریشن میں امریکی سیلرزکوگراوٴنڈ سپورٹ فراہم کی گئی جبکہ صدرزرداری،یوسف رضاگیلانی اورآرمی چیف جنرل کیانی نے اپنابیان نہیں دیا۔
رپورٹ میں اسامہ بند لادن کی دونوں اہلیہ کے بیانات بھی شامل ہیں۔اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی پرکوئی فردیاادارہ ذمہدارنہیں ہے۔
کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاع دینے کی ذمہ داری بنیادی طور پر آئی ایس آئی کی تھی ۔ایبٹ آباد کمیشن دو مئی کے واقعے کے ذمہ داروں کاتعین کرنے میں ناکام ہوگیا۔
ایبٹ آباد آپریشن شروع ہونے سے کچھ دیر قبل امریکی سفارتخانہ اسلام آباد سے پانچ گاڑیاں ایبٹ آباد کی طرف روانہ ہوئی تھیں۔  رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاک فضائیہ کو امریکی ہیلی کاپٹروں کے پاکستان میں داخل ہونے کی اطلاع ہی نہ مل پائی۔
 کمیشن کے رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایبٹ آباد آپریشن مکمل کرنے کے بعد امریکی سیل کمانڈوز اسامہ بن لادن کے کمپاوٴنڈ سے سونے اور جواہرات سے بھرا ڈبہ اور اسامہ کی وصیت بھی اپنے ساتھ لے گئے۔
کمیشن رپورٹ میں سابق ڈی۔ جی آئی ایس آئی احمد شجاع پاشا نے انکشاف کیا کہ اسامہ کے قریبی ساتھی خالد شیخ محمد کو گرفتاری کے 4روز بعد ہی امریکا کے حوالے کردیا گیا تھا۔ خالد شیخ محمد کی بیماری کے باعث ان سے کوئی تفتیش نہیں ہو سکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے شکیل آفریدی کی رہائی کو کہا مگرانہیں واپس نہیں کیا گیا۔
امریکی سعودی عرب جیسے دوست ممالک کے ذریعے شکیل آفریدی کی رہائی کا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر شکیل آفریدی نے کمیشن کو اپنے بیان میں بتایا کہ انہیں سی آئی اے کا پتہ تھا نہ اسامہ کا۔ انہوں نے محض ایک غیر سرکاری تنظیم کے لیے بچوں کی ویکسینیشن کا کام کیا۔ رپورٹ میں پا ک فوج کے انکوائری بورڈ اور آئی ایس آئی کی انکوائری رپورٹ میں بھی کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲