2 جولائی 2013 - 19:30
قاہرہ یونیورسٹی میں جھڑپوں کے دوران 16 افراد ہلاک

مصرکے صدرمحمد مرسی کے خلاف عوامی احتجاج بدستور جاری ہے مظاہرین صدر مرسی سے بستعفی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ قاہرہ یونیورسٹی میں جھڑپوں کے دوران 16 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔

ابنا: مصرکے صدرمحمد مرسی کے خلاف عوامی احتجاج بدستور جاری ہے مظاہرین صدر مرسی سے بستعفی کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ قاہرہ یونیورسٹی میں جھڑپوں کے دوران 16 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے۔ صدر مرسی کے اقتدار کو ایک سال مکمل ہونے پر اتوار سے ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ قاہرہ کے تحریر اسکوائر پر لاکھوں افراد نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ مصری فوج کی جانب سے 48 گھنٹوں میں عوامی خواہشات کے مطابق مسئلہ حل کرنے کے الٹی میٹم کی ڈیڈ لائن آج شام ختم ہورہی ہے۔صدر مرسی کے کل فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے دن بھر مذاکرات جاری رہے، جس کے بعد رات گئے صدر مرسی نے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کیا۔ انہوں نے اقتدار چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے فوج سے الٹی میٹم واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے صدر مرسی کے خطاب کو مسترد کرتے ہوئے اسے خانہ جنگی کا اعلامیہ قرار دیا ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔مصری فوج کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آج الٹی میٹم کی ڈیڈلائن ختم ہونے تک اگر صدر مرسی اور مخالف جماعتیں شراکت اقتدار کے کسی معاہدے پر متقفق نہ ہوئے تو فوج آئین معطل کرکے اپنے روڈ میپ پر عمل کرائے گی۔ مصری عوام نے اخوان المسلمین کی قیادت میں بننے والی حکومت کو مسترد کردیا ہے اخوان المسلمین کی حکومت نے گذشتہ ایک سال تک  مصری عوام اور مصری انقلاب کی امنگوں کے مطابق کام نہیں کیا بلکہ سابق حکومت کی طرح امریکہ اور اسرائیل کےساتھ تعلقات مضبوط بنانے کی راہ پر گامزن رہی اور اس نے شام میں دہشت گردی کے فروغ کے لئے امریکہ، اسرائيل اور بعض دیگر ممالک کا بھر پور تعاون کیا۔...../169