ابنا: اسلامي جمہوريہ ايران کے صدر ڈاکٹراحمدي نژاد نے منگل کو ايران کے جنوبي صوبے خوزستان ميں ماحوليات سے متعلق ايک تحقيقاتي مرکز کي افتتاحي تقريب ميں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ماحوليات کو متاثر کرنےوالي ستر فيصد آلودگي صنعتي ملکوں کي پيدوار ہے کہا کہ جو لوگ عالمي سطح پر خطرناک قسم کي آلودگي پيداکررہے ہيں وہ اپنے سسٹم اور روش کي اصلاح کريں تاکہ ماحول حيات اپنے فطري انداز ميں صاف ہوسکے۔
صدر احمدي نژاد نے کہاکہ ماحوليات نے عام لوگوں کي زندگي ، روز گار اور معمولات زندگي پر اہم اثرات مرتب کئے ہيں جن ميں سے ايک گرد وخاک کا طوفان بھي ہے - انہوں نے کہ گذشتہ دس برس سے ايران کو اس طرح کے گرد وخاک کے طوفان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کي وجہ سے ايراني عوام پر اس کے گہرے منفي اثرات مرتب ہوئے ہيں اور اس کي وجہ سے روزمرہ کي زندگي بري طرح متاثر بھي ہوئي ہے۔
صدر احمدي نژاد نے کہا گرد وخاک کے يہ طوفان زيادہ تر ہمسايہ ملکوں سے ايران ميں آتے ہيں کہ جن کا مرکز عراق اور سعودي عرب ہيں کہاکہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے متعدد اقدامات اور اصلاحات انجام دي گئي ہيں جن ميں سے ايک ان بڑے تالابوں ميں پاني کي فراہمي ہے جو ايران پر مسلط کردہ جنگ کے دوران خشک ہوگئے تھے۔
.......
/169