ابنا: حاجی محمد اقبال گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن ہیں۔ آپ بلتستان ڈسٹرکٹ کونسل کے وائس چیئرمین بھِی رہ چکے ہیں۔ آل پاکستان گلگت بلتستان ٹور آپریٹرز کے صدر ہونے کے ساتھ ساتھ بلتستان ٹورز پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر بھی ہیں۔ عالمی جشن نوروز کے موقع پر ''اسلام ٹائمز'' نے حاجی محمد اقبال کا انٹرویو کیا ہے، جو قارئین کے لئے پیش خدمت ہے۔
قارئین کی دلچسپی کے لئے اپنا تعارف کروائیں۔؟
میں حاجی محمد اقبال، گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا سابق رکن ہوں۔ بلتستان اس وقت ایک ضلع تھا، جو بعد ازاں دو ضلعوں میں تقسیم کیا گیا اور اب چار ضلعے ہو رہے ہیں۔ بلتستان ڈسٹرکٹ کونسل کا وائس چیئرمین رہا ہوں۔ آل پاکستان گلگت بلتستان ٹور آپریٹرز کا گذشتہ پندرہ سال سے صدر ہوں۔ اس ذات کا شکر ہے، بلتستان ٹورز پاکستان کا مینجنگ ڈائریکٹر ہوں۔
گذشتہ چند سالوں سے سیاحت میں کمی واقع ہوئی ہے، دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہونے والے شمالی علاقہ جات کی طرف سیاحوں کی آمدورفت کا سلسلہ کم ہوا، اس کی کیا وجوہات ہیں۔؟
پاکستان کے دشمن ممالک، جو پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے، وہ پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ دوسرا ہم نے خود اپنے ملک کے اندر آگ و خون کا کھیل شروع کر رکھا ہے۔ کراچی سے لیکر گلگت تک پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے۔ اسی دہشت گردی نے سیر و سیاحت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔
گلگت بلتستان میں جشن نوروز کی تاریخ سے ہمارے قارئین کو آگاہ کریں۔؟
جب سے انسان نے اس علاقے میں قدم رکھا ہے، تب سے یہ تہوار ہمارے علاقے میں منایا جا رہا ہے۔ اسلام کی آمد کے بعد اس کا نام نوروز پڑ گیا۔ اس سے قبل بدھ مت کے دور میں بھی یہ ایک تہوار کے طور پر منایا جاتا تھا۔ جب کھیتی باڑی کا موسم آتا تھا تو یہ تہوار منایا جاتا تھا۔ یہ تہوار 19 فروری کے بعد شروع ہو جاتا ہے۔ 21 مارچ تک کسان کھیتی باڑی ختم کرلیتے ہیں، پھر تخم سیزی کرتے ہیں، کاشت وغیرہ کرتے ہیں۔ ادھر کاشت کاری ختم ہوتی ہے اور بہار کی آمد آمد ہوتی ہے، اس موقع پر یہ تہوار محبت، امن، دوستی اور دعا کے لئے اس زمانے میں منایا جاتا تھا۔ اسلام کے آنے کے بعد، ہمارے خطے میں پہلے مبلغ اسلام امیر کبیر سید علی ہمدانی تشریف لائے اور ہمارے خطے میں اسلام پھیلا۔
اسی طرح کشمیر میں بھی امیر کبیر سید علی ہمدانی کی کوششوں سے اسلام کا بول بالا ہوا۔ بلتستان کے علاقے خپلو جو سپاچن گلیشئر ہے وہاں مختلف کیمپ سائٹس موجود ہیں، جو امیر کبیر سید علی ہمدانی کے نام سے موسوم ہیں۔ امیر کبیر آج سے سات آٹھ سو سال قبل ایران سے اس دور افتادہ علاقے میں تشریف لائے، اس طرح ہمارے بلتی کلچر میں ایرانی کلچر بھی سرایت کر گیا۔ ہماری اصل زبان بدھ مت زبان تھی جو لداخ و کرگل میں بولی جاتی تھی۔ ہماری کتب عربی و فارسی میں ہیں۔ بلتی زبان صرف بولنے کی حد تک باقی ہے، اس کا رسم الخط ختم ہو چکا ہے۔
جشن نوروز اس زمانے میں آمد بہار کے لئے، پیار کے لئے، نئے سال کے لئے منایا جاتا تھا۔ اسلام کی آمد کے بعد اب ہمارے علاقے میں نوروز اسلامی کلچر کے تحت منایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ خوش آئند بات یہ ہے کہ جب پاکستان بنا، 23مارچ جو کہ قرارداد پاکستان کا دن ہے۔ پاکستان بننے کے بعد نوروز کی تقریبات کو پاکستان کی تقریبات کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ تو 21 مارچ سے لیکر 23 مارچ تک ہمارے علاقے میں جشن نوروز و یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار قازقستان، ترکمانستان، ایران، چین کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے۔ خصوصاً ہمارے پہاڑی علاقے میں قراقرم اور ہمالیہ میں جوش وخروش سے یہ تہوار منایا جاتا ہے۔ امن کے ان تہوار کی وجہ سے ہمارے علاقے بلتستان کو Most peaceful area in the world کہا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان جاتے ہوئے لوگوں کو بسوں سے اتار کر شہید کیا گیا، گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی کے ممبر کے طور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ اس Shia Genocide کی کیا وجوہات ہیں۔؟
میں سمجھتاہوں کہ اسلام تو اس کی اجازت نہیں دیتا، اسلام میں قطعاً یہ گنجائش نہیں ہے، مسلمان تو مسلمان، آپ کسی غیر مسلم کو بھی اذیت نہیں دے سکتے۔ رسول اللہ (ص) نے اسلام کو امن کا مذہب قرار دیا ہے۔ اسلام امن کا نام ہے، ان دہشت گردوں کو اسلامائزیشن سے کوئی محبت نہیں ہے۔ دہشت گرد انسانیت کا دشمن ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
الیکشن کی آمد آمد ہے، اس موقع پر شیعہ نسل کشی میں تیزی آئی ہے، گذشتہ دنوں ملت تشیع کا سرمایہ پروفیسر سید سبط جعفر کو شہید کر دیا گیا، اس دلخراش واقعہ کے متعلق آپ کیا کہیں گے۔؟
اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ واقعہ علم دشمنی کے مترادف ہے، کیونکہ رسول اکرم (ص) نے فرمایا تھا کہ علم کا حاصل کرنا ہر مسلم مرد و عورت پر فرض ہے۔ سید سبط جعفر ایک ملنسار معلم تھے۔ دہشت گردوں نے علم پھیلانے والوں کو بھی نہیں معاف کیا، تو یہ بہت افسوس ناک امر ہے۔ ایسی گھناؤنی واردات مسلمان نہیں کرسکتا۔ ہمارے علاقے میں موجود مسجد چکچن اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان تو مسلمان، ہم کسی لادین کی بھی دل آزاری نہیں کرتے۔ یہ تعلیمات امیر کبیر سید علی ہمدانی کی عطا کردہ ہیں۔ انہوں نے بدھ مت کے ٹیمپل کو منہدم نہیں کیا بلکہ اس کے اوپر تختے اور لکڑیاں رکھ کر ان کے اوپر مسجد تعمیر کی۔ یہ ٹیمپل اور مسجد آج آٹھ سو سال کے بعد بھی موجود ہے۔ یہ ہے اسلام جو دوسروں کے لئے قابل تقلید ہے۔ اسلام امن، پیار اور محبت کا درس دیتا ہے۔ اسی طرح نوروز بھی پیار محبت اور قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا تہوار ہے۔
.......
/169