1 اپریل 2013 - 19:30

لیاقت علی ساہی: ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ تریسٹھ سالوں سے نصف حصہ ملک پر آمریت مسلط رہی جس نے ریاستی اداروں سمیت جمہوریت کو بھی پنپنے نہیں دیا اس کا خمیازہ پوری عوام کو بھگتنا پڑا۔

ابنا: پاکستان سندھ برادری الائنس مزدور رہنما لیاقت علی ساہی نے ایک وفد سے ملاقات میں کہا: آمریت کے دور میں بہت سے فیصلے غیر منصفانہ آمریت کو تقویت دینے کیلئے کئے گئے تھے جس میں میرٹ نہیں تھی بالخصوص کراچی کے جو حلقے بنائے گئے تھے وہ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر تمام حلقوں کو تقسیم کیا گیا تھا جس کو کسی بھی باشعور معاشرے میں انصاف پر مبنی نہیں کہا جا سکتا۔  انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی عوام کو اگر الیکشن کا پروسس مکمل طور پر شفاف طریقے سے فراہم کر دیا جائے تو ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ عوام کے حقیقی نمائندوں کو انتخاب نہ ہو سکے ہمارے ملک کی بدقسمتی ہے کہ تریسٹھ سالوں سے نصف حصہ ملک پر آمریت مسلط رہی جس نے ریاستی اداروں سمیت جمہوریت کو بھی پنپنے نہیں دیا اس کا خمیازہ پوری عوام کو بھگتنا پڑا۔
 
لیاقت ساہی نے مزید کہا کہ  تعلیمی معیار اتنا خستہ ہو چکا ہے کہ طبقاتی تقسیم شروع ہو گئی ہے۔ ایک طبقہ وہ جس کا تعلق اشرافیہ سے ہے وہ اپنے بچوں کیلئے تعلیم کو دولت کے بل بوتے پر خرید کر ریاستی اداروں میں قبضہ کر رہا ہے اور ایک طبقہ وہ ہے جس کے بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے چٹائی بھی نصیب نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی کرنے والوں کی کارکردگی کا بغور جائزہ لیا جو یا تو صفر ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حلقہ بندیاں اپنی منشاء کے مطابق آمریت کے دور میں ترتیب دے کر من پسند لوگوں کو محنت کشوں، متوسط طبقے اور سماجی برادیروں پر مسلط کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہی بنیادوں پر سپریم کورٹ میں ایک مقدمے میں نشاندھی کی گئی تھی جس کی بنیاد پر کراچی کے حلقوں کی نئے سرے سے حد بندیاں کرنے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جس کی روشنی میں الیکشن کمیشنر نے آٹے میں نمک کے برابر کچھ حلقوں کی حد بندیوں کے احکامات جاری کئے جس کے خلاف کچھ سیاسی جماعتیں واویلا کر رہی ہیں کہ کراچی کی عوام کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کراچی کے تمام مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا اس پر اتفاق ہے کہ شفاف الیکشن کیلئے ضروری ہے کہ حلقوں کی حد بندیاں عین انصاف کے تقاضوں کے مطابق کی جائیں تاکہ کراچی کے پسے ہوئے لوگوں، گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی کے ہاتھوں یر غمال اور بنیاد ی حقوق سے محروم افراد اپنے ووٹ کے صحیح طریقے سے استعمال کر سکیں تاکہ ملک کو جن چلنجوں کا سامنا ہے ان کا مقابلہ کیا جا سکے۔

لیاقت ساہی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کراچی میں گزشتہ کئی سالوں سے اکثریت کے ساتھ منتخب ہو رہی ہے بقول اس کی قیادت کے کہ انہوں نے عوام کے جائز حقوق کی بھر پور ترجمانی کی ہے چونکہ کراچی کا مینڈیٹ ان کا پاس ہے ان کو کم سے کم الیکشن کمیشنر کے فیصلے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہے بلکہ اب تو انہوں نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں بھی درخواستیں داخل کی ہوئی ہیں ابھی ان کا فیصلہ ہی نہیں آیا تو ایک خبر ان کی طرف سے شائع کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ میں انصاف کے حصول کیلئے بھی ان کی طرف سے درخواست داخل کر دی گئی۔ اس کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو پاکستان کے دستور کو سب لوگ تسلیم کرتے ہیں جس میں ریاست کے علاوہ کسی فرد کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ وہ ریاست کے فیصلوں کے خلاف اقوام متحدہ میں براہ راست جائے بلکہ اس کو دستور سے بغاوت کہا جائے گا۔ اس کی روشنی میں الیکشن کمیشنر کو ایم کیو ایم الطاف کی درخواست کا جائزہ لینا چاہئے۔ پوری قوم کی درینہ خواہش کہ الیکشن کمیشنر اصولوں پر سمجھوتہ کرنے بجائے قوام کی ترجمانی کریں اور جو لوگ بھی ملک کے دستور کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف آئین و قانون کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/242