ابنا: ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی رہنے والی ۸۰ سالہ ایک خاتون میر بی بی نے اس طرح اپنی دکھ بھری کہانی سنائی: امن وسکون کیا ہوتا ہے یہ میں نہیں جانتی ، میر ی 80برس کی زندگی مصائب میں گزری ہے، اپنے دو بیٹے کھو چکی ہوں ،اور تیسرا کہاں ہے یہ خدا جانے ‘‘۔ یہ الفاظ ہیں اوگہ بل کپواڑہ کی ایک بدنصیب خاتون میربی بی کے ،جس کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی سکون نہیں دیکھا ، جوانی میں ہی مجھ پر دکھوں اور مصیبتوں کا پہاڑ اسو قت ٹوٹ پڑا جب میرا خاوند جمال الدین کھٹانہ اس دنیا سے چل بسا ،اور بھیک مانگ کر میں نے بچوں کو پالا ۔ میر بی بی کا کہنا ہے کہ 1990سے میرے کنبے پر یکے بعد دیگرے افتاد پڑتی رہی اور میرے تینوں چشم چراغ ایک ایک کر کے گل ہوتے گئے ۔ 90کے اوائل میں میرا بیٹا بدرالدین کھٹانہ اچانک گھر سے لاپتہ ہوگیا، کہی برس تک اس کی تلاش کرتی رہی لیکن جیسے وہ ہوا میں تحلیل ہوا ۔میر بی بی نے بتایا ’’ ہر چوکھٹ پر میں گئی ، ہر گلی میں بیٹے کو ڈھونڈنے کی کوشش کی ، ہر درگاہ و زیارت پر منتیں مانگی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا‘‘۔میر بی بی نے آہ بھرتے ہوئے کہا ’’ 90کی دہائی میں لاپتہ ہوئے اپنے جوان سال بیٹے کی جدائی کا غم ابھی بھرا ہی نہیں تھا کہ گائوں میں فائرنگ کے دوران 2000میں فوج نے ہمارا مکان جلا دیا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ کئی برس تک دردر کی ٹھوکریں کھاتی رہی ،گائوں والوں نے مدد کی اور 2010میں ایک عارضی مکان تعمیر کیا جس میں آج میرا یتیم کنبہ رہائش پذیر ہے ۔اس نے بتایا کہ بدنصیبی صرف یہاں ہی نہیں رکی بلکہ جس مکان کو جلایا گیا اس کا معاوضہ بھی نہیں ملا۔اس طرح میری زندگی میں ہر لمحے کے ساتھ ساتھ ایک ایک قیامت ٹوٹتی گئی ۔تین بیٹے کھونے کا غم لئے میر بی بی نے اپنی درد بھری کہانی کا مزید احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا بڑا بیٹا عالم الدین کھٹانہ ، کو فوج نے2003میں نزدیکی کیمپ میں بلا کر اس کوگولیاں مار کر ہلاک کیا، حالانکہ اسکا کوئی قصور نہیں تھا اور نہ ہی وہ کسی عسکری جماعت سے وابستہ تھا لیکن اس کے باوجود اسے موت کی نیند سلا دیا گیا اور دوسرے دن گائوں والوں نے میرے بیٹے کی لاش کیمپ کے باہر دیکھ کر واپس لائی ، میرا بیٹا گھر کا واحد کمائو تھا ۔عالم الدین کے بیٹے شریف الدین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اس کے والد کی موت کے بعد وہ سکول نہیں جاسکا۔ اُس کا کہنا تھا کہ اگرچہ سرکار کی جانب سے انہیں اُس کے والد کی موت کے بعد ریلیف دیا گیا لیکنSRO 43کے تحت مراعات نہیں دی گئی ۔قیامت ٹوٹنے کا سلسلہ یہی نہیں رکا بلکہ 5جولائی2005کو ساڑھے دس بجے رات میرے تیسرے بیٹے بشیر احمد کو نامعلوم نقاب پوش افراد نے یہ کہہ کر اپنے ساتھ لیا کہ انہیں راستہ دکھانا ہے ، لیکن اس کے بعد وہ واپس نہیں لوٹا۔ دوسرے دن صبح جب اس کی تلاش کرنے کیلئے میرے ساتھ اور بھی لوگ نکلے تو اس کی لاش جنگل کے نزدیک ایک نالے میں پائی گئی ، میرے بیٹے کے گلے میںرسی پائی گئی جس سے اُسے پھانسی دی گئی تھی۔ پولیس نے رپورٹ درج کرکے تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کرائی لیکن ابھی تک وہ تحقیقات عمل میں نہیں لائی گئی اور اس طرح سرکار کی جانب سے بھی اس کی مشکلات میں اضافہ ہی کیا گیا کمی نہیں کی گئی ۔ بشیر احمد کی شادی ہوئی تھی اور اس کے گھر میں تین لڑکیاں اور ایک بیٹا ہے جس کا نام محمد ا قبال ہے وہ اس وقت 8ویں جماعت میں پڑھتا ہے اور گھر کا نظام چلانے کیلئے مزدوری بھی کرتا ہے۔ میر بی بی نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی ہے کہ اسے صرف یہ بتایا جائے کہ اس کے دو بیٹوں کو کیونکر ہلاک کیا گیا ، انہوں نے کیا قصور کیا تھا کہ ایک کو اغوا کرکے پھانسی دی گئی اور دوسرے کو فوجی اہلکاروں نے گولیوں سے بھون ڈالا ۔ان کا کہنا ہے کہ جو بیٹا لاپتہ ہوا ہے ابھی تک اس کے بارے میں اسے کچھ نہیں معلوم کہ اسے زمین کھا گئی یا آسمان۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے یہ بھی اپیل کی کہ اس کے گھر کو جلانے کے عوض معاوضہ کیوں نہیں دیا گیا اور ایس آر او کے تحت گھر کے فرد کو ملازمت کیوں نہیں فراہم کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242
17 مارچ 2013 - 20:30
News ID: 401032
۳ بیٹے ایک ایک کر کے حالات کی بھینٹ چڑھ گئے، جموں کشمیر کے وزیر اعلی سے تحقیقات کی اپیلی کی۔