8 مارچ 2013 - 20:30

ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے حکومت کی دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن اور مطالبات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ابنا: علامہ محمد امین شہیدی کی قیادت میں مجلس وحدت مسلمین کے وفد نے وزیراعلٰی سندھ سید قائم علی شاہ سے ان کی خواہش پر ملاقات کی اور سانحہ عباس ٹاؤن پر ایم ڈبلیو ایم کے مطالبات پر تبادلہ خیال کیا۔ وفد میں ایم ڈبلیو ایم کے پولیٹیکل سیکرٹری ناصر عباس شیرازی، اصغر زیدی اور کراچی کے سیکرٹری جنرل مولانا صادق تقوی شامل تھے۔ وزیراعلٰی کی معاونت کیلئے سینیٹر فیصل رضا عابدی اور شرجیل میمن موجود تھے۔ ملاقات میں ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے حکومت کو دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن اور مطالبات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعلٰی سندھ سید قائم علیشاہ نے کہا کہ بارہ مارچ تک شہداء کے تمام لواحقین کو اپارٹمنٹس حوالے کر دئیے جائیں گے، حکومت زخمیوں کے علاج پر تمام اخراجات بھی اٹھائے گی۔

وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کمیشن نے اجازت دیدی تو شہداء کی فیملی میں سے ایک شخص کو ملازمت بھی دی جائیگی۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو ایک خط بھی لکھا جائیگا۔ مطالبات کے حوالے ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بھی بنائی گئی، جو ان تمام مطالبات پر پیشرفت کا ڈے بائی ڈے جائزہ لے گی، کمیٹی میں مجلس وحدت مسلمین کے دو ارکان شامل ہیں، جبکہ ایک اہلسنت اور ایک رکن حکومت کی طرف سے کمیٹی میں شامل ہونگے۔ وزیراعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ حکومت دہشتگردی کیخلاف سنجیدگی سے لڑ رہی ہے۔ وطن دشمن عناصر ہمیں شکست نہیں دے سکتے۔ واضح رہے کہ ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری کی مطالبات کی منظوری کیلئے حکومت کو دی گئی 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن ابھی ختم نہیں ہوئی، تاہم حکومت کی طرف سے مطالبات پر تیزی سے عمل شروع ہوگیا ہے۔ ڈپٹی اسپیکر شہلہ رضا نے گذشتہ شام آغا خان اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور امدادی چیک تقسیم کئے۔

.......

/169