5 فروری 2013 - 20:30

یلغاریہ کا وزیر خارجہ نے رپورٹ پیش کی شھر برگاس میں اسرائیلی سیاحوں کی بس پر حملے میں حزب اللہ ملوس تھا۔

بلغاریہ کے وزیر داخلہ ٹسوٹان   ٹسوٹانوف نے پانچ فروری کو ملک کی قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں جولائی  سنہ دو ہزار بارہ میں برگاس شہر میں ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلغاریہ کے شہر برگاس میں اسرائیلی سیاحوں کی بس پر کۓ جانے والے بم دھماکے میں حزب اللہ لبنان کے افراد ملوث تھے۔گزشتہ مہینے بلغاریہ کے وزیر خارجہ نیکولائی ملادنوف کے دورۂ اسرائیل کے موقع پر اس رپورٹ کا ابتدائی متن صیہونی حکام کے حوالے کیا گيا تھا۔ اس تحقیق کےنتائج اسرائیلی حکام کے دعوؤں سے مکمل طور پر میل کھاتے ہیں۔ صیہونی حکومت نے برگاس شہر میں ہونے والے بم دھماکے کے فورا بعد بغیر کسی تحقیق کے ایران اور حزب اللہ لبنان پر اس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیاتھا۔ اور اب بلغاریہ نے اس واقعے کی چھ ماہ تک جو تحقیقات انجام دی ہیں ان کے مطابق اس واقعے میں ملوث ہونے کے سلسلے میں دو افراد پر شک کا اظہار کیا جارہا ہے جن کے پاس آسٹریلیا اورکینیڈا کے پاسپورٹ تھے۔ اور ان میں سے ایک فرد سنہ دو ہزار چھ سے جبکہ دوسرا دو ہزار دس سے لبنان میں زندگی گزار رہا تھا۔ سی سی ٹی وی چینل نے ایک مشکوک فرد کی تصویر جاری کی ہے جبکہ اس واقعے کے بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ٹی وی سے دکھائي جانے والی تصویر حقیقی مشتبہ فرد کے ساتھ کوئي مشابہت نہیں رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اس واقعے کی تحقیقات میں شرکت کرنے والے ماہرین کے درمیان بھی اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بلغاریہ کی حکومت نے برگاس میں ہونے والے بم دھماکے کو ایک خود کش حملہ قرار دیا ہے جبکہ یورپی یونین کی پولیس کہ جس کے پچاس اہلکاروں نے ان تحقیقات میں شرکت کی تھی ،  کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکہ ریموٹ کنٹرول سے کیا گیا تھا۔ ان تمام ابہامات کے باوجود بلغاریہ کے وزیر داخلہ نے حزب اللہ لبنان کو اس بم دھماکے میں ملوث قرار دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تحقیقات حزب اللہ کے بارے میں یورپ کے موقف میں تبدیلی لانے کا ایک حربہ ہے۔ برگاس رپورٹ جاری ہونے کے فورا بعد صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس رپورٹ کا خیر مقدم کرتے ہوئے یورپ  سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ حزب اللہ لبنان سے متعلق اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔ اور اس تنظیم کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرے۔ اس اسرائیلی عہدیدار کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے برگاس بم دھماکے میں ملوث ہونے کے الزام میں حزب اللہ لبنان کی مذمت کی ہے۔ امریکہ کے انسداد دہشتگردی کے ادارے کے سربراہ جان برنان نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں یورپ سے مطالبہ کیا گيا ہے کہ وہ حزب اللہ لبنان کے ساتھ اپنے مالی تعلقات ختم کردے۔ ان عہدیداروں نے بلغاریہ کے وزیر داخلہ کی رپورٹ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یورپی یونین کی مشرق وسطی سے متعلق پالیسیوں کو امریکہ اور اسرائیل سے قریب تر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یورپ میں ہالینڈ اور برطانیہ دو ایسے ملک ہیں جو حزب اللہ لبنان کو دہشتگرد تنظیم قرار دیۓ جانے اور اس کے خلاف پابندیاں عائد کۓ جانے کے حق میں ہیں لیکن فرانس سمیت یورپی یونین کے اکثر رکن ممالک اس موقف کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ فرانس حزب اللہ  کو ایک ایسی تنظیم جانتا ہے کہ جو سیاسی ، سماجی اور عسکری میدانوں میں سرگرم عمل ہے اس لۓ اسے صرف ایک عسکری تنظیم قرار نہیں دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے دہشتگرد کہا جاسکتا ہے۔ حزب اللہ اس کے علاوہ لبنان کی حکومت میں بھی شامل ہے اس لۓ حزب اللہ کے بارے میں یورپ کے موقف میں تبدیلی سے لبنان کی حکومت اور اس ملک میں جاری قومی آشتی کا عمل خطرے میں پڑ جائے گا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ ایشٹون نے برگاس واقعے کے بارے میں جو بیان جاری کیا ہے اسے ان تمام امور کو پیش نظر رکھ کر ہی تیار کیا تھا۔ ایشٹون نے حزب اللہ لبنان کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کۓ جانے کے مطالبے کا کوئي جواب نہیں دیا اور صرف یہ کہا ہے کہ برگاس کے واقعے کے بارے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔