اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سینٹر رضا ربانی نے پاکستانی سینٹ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی ڈرون حملوں کے سلسلے میں امریکی کانگریس کی قرارداد پر وزیر خارجہ حنا ربانی کھر ایوان میں آکر بیان دیں گی اور ہم اس مسئلے کو سلامتی کمیٹی میں بھی اٹھائیں گے۔ ادھر امریکی انتظامیہ نے پاکستان پر ڈرون حملوں کو جائز قرار دینے کے لئے نیا قانون ایک کتاب "پلے بک" کی صورت میں مرتب کیا ہے۔اطلاعات کے مطابق امریکی حکومت، ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے قواعد و ضوابط پر مشتمل ایک کتاب تیارکر رہی ہے جس میں دوسرے ممالک میں افراد کو نشانہ بنانے کےلئے سخت قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں لیکن ‘پلے بک’ نامی اس کتاب کا اطلاق پاکستان پر نہیں ہوگا کیونکہ سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ڈرون حملوں سے متعلق امریکی حکومت کی جانب سے ایسی پالیسی وضع کی جا رہی ہے جس کے بعد سی آئی اے کو پاکستان میں ڈرون حملوں کی کھلی چھوٹ مل جائے گی۔ اخبار کے مطابق اس پالیسی کی رو سے امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چیدہ چیدہ اہداف پر کھلے عام ڈرون حملے کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے نئی پالیسی سی آئی اے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈرون حملوں کے لیے کھلی اجازت دینے کے مترادف ہوگی۔ پالیسی کا اہم ترین مقصد افغانستان سے امریکی انخلا کے وقت القاعدہ اور طالبان کو مزید کمزور کرنا ہے تاکہ وہ امریکہ کے لیے مزید مشکلات پیدا نہ کر سکیں۔ واضح رہے کہ امریکہ شام میں القاعدہ اور افغان و پاکستانی طالبان سے شام میں بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو جہاں بھی مداخلت کرنی ہو وہاں یا تو پہلے سے ہی دہشت گرد بھجوادیتے ہیں تا کہ مداخلت کے لئے ایک دستاویز کا سہارا لیا جاسکے جس کی مثال افریقی مسلم ملک مالی ہے جس میں فرانس نے لیبیا سے آئے ہوئے دہشت گردوں کے داخلے کے بہانے، اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ہی مداخلت کی ہے اور امریکہ و برطانیہ نیز یورپی یونین فرانس کی حمایت کررہے ہیں یا پھر القاعدہ اور افغان و پاکستانی طالبان کو اپنی نیابت ميں مستقل حکومتوں کے خلاف لڑنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے جس کی مثال شام میں دہشت گردوں کی انسانیت کش کاروائیاں ہیں جن کو امریکہ اور یورپ کی کھلی حمایت حاصل ہے چنانچہ بعید از قیاس ہے کہ وہ افغانستان یا پاکستان میں اپنے آستین کے پالے دہشت گردوں کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے کیونکہ حتی افغانستان سے انخلاء کے باوجود امریکہ ان دہشت گردوں کو مستقبل میں پاکستان اور افغانستان کو بلیک میل کرنے کے لئے استعمال کرے گا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق دستاویز کے تحت سی آئی اے کو پاکستان میں ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک ڈرون حملے کرنے کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے اور ڈرون حملے جاری رکھنے یا بند کرنے کا فیصلہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں اہداف حاصل کرلینے کے بعد پاکستان پر بھی ‘پلے بک’ کا اطلاق ہو جائے گا جس کو کچھ غلطیوں کی درستگی کے بعد اگلے چند ہفتوں میں باراک اوباما کی حتمی منظوری کے لیے بھیج دیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکی حکومت گذشتہ ایک سال سے انسداد دہشت گردی کی پالیسیوں اور مہلک آپریشنز کا طریقہ کار طے کرنے کی کوششیں کر رہی تھی تاکہ انہیں صدر اوباما کے دوسرے دور حکومت میں اپنایا جا سکے اور امریکی وزارت خارجہ، سی آئی اے اور پنٹاگون کے درمیان مہلک آپریشنز کے حوالے سے اختلافات کی وجہ سے ‘پلے بک’ ترتیب دینے کا عمل خطرے میں پڑ گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
21 جنوری 2013 - 20:30
News ID: 383756
پاکستان نےامریکہ کی جانب سے اس ملک پر ڈرون حملوں کیلئے سی، آئی، اے کو کھلی چھوٹ دینے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور امریکہ نے نئے قانون میں پاکستان میں ڈرون حملے جائز قرار دیئے ہیں۔