4 جنوری 2013 - 20:30

انھوں نے کہا: اربعین امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا خاص دن ہے جن لوگوں نے تاریخ میں ائمۂ طاہرین کی توہین کی ہے وہ خود ذلیل و رسوا ہوچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالی اس کی اجازت نہیں دیتا اور اپنے صالح بندوں کا دفاع کرتا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق قم اور تہران میں عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے دونون شعبوں میں اربعین حسینی کی مناسبت سے مجالس عزاداری کا اہتما کیا گیا۔عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین محمد حسن اختری نے تہران میں واقع اسمبلی کے مرکزی شعبے میں مجلس عزاداری سے خطاب کرتے ہوئے اربعین کے سلسلے میں محبان و پیروان اہل بیت (ع) سے تسلیت و تعزیت کا اظہار کیا اور زیارت سیدالشہداء علیہ السلام کے لئے آنے والے پہلے زیارتی مجموعوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا: اربعین امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا خاص دن ہے؛ ائمہ ہدایت علیہم السلام کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے عزیمت کرنے پر زور دیتے رہے ہیں اور اربعین کی تکریم کا خاص اہتمام کرتے رہے ہیں.انھوں نے کہا: سیدالشہداء علیہ السلام کی عزاداری ہمارے لئے فردی اور اجتماعی طور پر تحفظ فراہم کرتی ہے اور جس شخص کو قریب سے سیدالشہداء علیہ السلام کی زیارت کی توفیق حاصل نہ ہو وہ دور سے زیارت اربعین کی قرائت کرسکتے ہیں اور اربعین کے لئے وارد ہونے والی دعائیں پڑھ سکتے ہیں اور یوں وہ زیارتے کے ثواب میں شریک ہوسکتے ہیں۔ عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے سیکریٹری جنرل نے آج کے معاشروں میں قیام حسینی کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے 30 دسمبر 2010 کو ایرانی عوام کے عظیم قیام کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ 30 دسمبر کا عظیم کارنامہ بھی عاشورا کا تخلیق کردہ ہے اور وہ یوں کہ اس سے تین دن قبل امریکہ اور اسرائیل کے کرائے کے بلوائیوں نے عاشورا کی بےحرمتی کی جس کے جواب میں ایرانی عوام نے مل کر عظیم ترین کارنامہ سرانجام دیا چنانچہ یہ جو ائمہ علیہم السلام نے قیام عاشورا کے تحفظ اور اس قیام کی یاد منانے پر زور دیا ہے اس کا محرک صرف اور صرف دین اور دینی اقدار کا احیاء ہے۔ انھوں نے کہا: 30 دسمبر 2010 کو ایران کے مسلم عوام نے خاندان عصمت و طہارت سے اپنی دلی عقیدت اور مودت کا عملی ثبوت دیا اور تاریخ کے قلب میں ایک نیا کارنامہ تخلیق کیا۔ لوگوں نے جب ایک ٹولے کی طرف سے امام حسین علیہ السلام کی شان میں گستاخی کا مشاہدہ کیا تو سب میدان میں آئے اور 30 دسمبر کو تخلیق کیا۔ انھوں نے کہا کہ صالح بندوں کا دفاع سنت الہیہ ہے اور تاریخ میں جب بھی کبھی کسی نے ا‏ئمہ اطہار علیہم السلام کی توہین و بےحرمتی کی ہے ان کو خود ذلیل و رسوا ہونا پڑا ہے کیونکہ اللہ تعالی کسی کو اس فعل کی اجازت ہرگز نہيں دیتا۔ انھوں نے اپنے خطاب کے آخر میں مصائب پڑھے اور مشہور صحابی جابر بن عبداللہ انصاری کے سفر کربلا اور اربعین کے روز زیارت سیدالشہداء علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110