ابنا: سعودي عرب ميں آل سعود کے خلاف عوامي مظاہروں کا سلسلہ ايک سال سے زائد عرصے سے جاري ہے – اسي کے ساتھ رپورٹيں بتاتي ہيں کہ آل سعود کي جانب سے عوام کي سرکوبي اور انساني حقوق کي پامالي ميں بھي شدت آگئي ہے۔حاليہ دنوں ميں سعودي عرب کے مشرقي علاقوں کے علاوہ بعض ديگر علاقوں ميں بھي عوام نے وسيع پيمانے پر آل سعود کے خلاف مظاہرے کئے ہيں۔ آل سعود نے عوامي مظاہروں کي سرکوبي ميں شدت کے ساتھ ہي عوامي رہنماؤں کے خلاف بھي تشدد بڑھاديا ہے۔تازہ رپورٹ يہ ہے کہ رياض کي سيکورٹي کورٹ نے ممتاز شيعہ عالم دين اور عوام کے مقبول رہنما شيخ توفيق عامر کو تين سال قيد کي سزا سنادي ہے۔ سيکورٹي کورٹ نےاسي کے ساتھ شيخ توفيق عامر پر تقرير کرنے اور بيرون ملک سفر پر پانچ سال کے لئے پابندي کا بھي اعلان کيا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ شيخ توفيق عامر کو سعودي اہلکاروں نے سترہ ماہ قبل، رياض حکومت سے نسلي اور فرقہ وارانہ امتياز کي پاليسيوں پر عمل درآمد بند کرنے ، انساني حقوق کي پامالي روکنے اور آزادي بيان دينے کا مطالبہ کرنے کي پاداش ميں گرفتار کرکے جيل بھيج ديا تھا۔شيخ عامر کي طرح دسيوں عوامي رہنما اور مذہبي علما عوام کے ساتھ يک جہتي کے اعلان اور ان کے مطالبات کي حمايت کي پاداش ميں سعودي جيلوں ميں قيد و بند کي سعوبتيں برداشت کررہے ہيں جن ميں شيخ باقر نمر کا نام ليا جاسکتا ہے جنہيں سعودي اہلکاروں نے پہلے گولي مارکے زخمي کيا اور پھر گرفتار کرکے جيل بھيج ديا۔مختلف ابلاغياتي ذرائع نے رپورٹ دي ہے کہ سعودي حکومت نے ان خاندانوں پر بھي سختي بڑھادي ہے جنہوں نے اپنے عزيزوں کي گرفتاري کے خلاف مظاہرہ کرکے ان کي رہائي کا مطالبہ کيا تھا۔ چنانچہ سعودي عرب ميں سياسي قيديوں کے پندرہ لواحقين کي گرفتاري پر انساني حقوق کي عالمي تنظيم ايمنسٹي انٹر نيشنل بھي ردعمل ظاہر کرنے پر مجبور ہوگئي اور اس نے آل سعودي سے مطالبہ کيا سياسي قيديوں کے لواحقين کو آزاد کيا جائے اور ان کے خلاف تشدد کا سلسلہ بند کيا جائے۔ايمنسٹي انٹرنيشنل نے رياض حکومت سے انساني حقوق کي پامالي روکنے اور مظاہرين کے خلاف تشدد بند کرنے کا بھي مطالبہ کيا ہے۔سعودي عرب کي بعض شہري اور انساني حقوق کي تنظيموں کا کہنا ہے کہ سعودي عرب ميں سياسي قيديوں کي تعداد تيس ہزار سے زيادہ ہے جو سعودي عرب کي کل دو کروڑ پچاس لاکھ کي آبادي کے تناسب سے وحشتناک ہے ۔اس کے علاوہ سعودي عرب ميں جيلوں کي حالت بھي ايسي ہے کہ ان جيلوں کو دنيا کے وحشتناک ترين عقوبتخانوں ميں شمار کياجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
19 دسمبر 2012 - 20:30
News ID: 373800
عالم دین کو سعودی کورٹ سے قید کی سزا / سياسي قيدي تيس ہزار سے زيادہ سعودي عرب ميں آل سعود کے خلاف عوام کے مظاہروں ميں وسعت کے ساتھ ہي حکومت کي سخت گير پاليسي اور انساني حقوق کي پامالي ميں شدت آگئ ہے۔