6 نومبر 2012 - 20:30

يمن كی سرگرم انقلابی شخصيت "استاد العبدلی" نے جنوبی يمن میں تكفيری اور انتہا پسند گروپوں كی عسكری امداد كوملك میں بيرونی عناصر كی مداخلت سے پيدا ہونے والی مشكلات كا حصہ قرار ديتے ہوئے كہا : امريكہ اور سعودی عرب يمن میں مذہبی جنگ كے درپے ہیں ۔

ابنا: قم میں واقع بين الاقوامی "امت واحدہ يونين" كے دفتر میں منعقد ہونے والی تجزياتی نشست كےدوران يمن سے تعلق ركھنے والے "استاد العبدلی" نے يمن میں رونما ہونے والے عوامی انقلاب كا تجزیہ و تحليل پيش كيا اور نشست میں موجود ۳۰ سے زائد طلبا كے سوالوں كے جوابات ديئے ہیں ۔انہوں نے كہا : يمن میں انقلابی تحريك كا آغاز عوامی اور لبرل دھڑوں كی باہمی مشاركت كے ساتھ ہوا ليكن افسوسناك بات ہے كہ آہستہ آہستہ اخوان يمن تحريك نے اس پر قبضہ كرلياہے ۔