31 اکتوبر 2012 - 20:07

آل خلیفہ کے بادشاہ کا ایک بیٹا نمائشی دورے پر غزہ جارہا ہے تا کہ لوگ دیکھ لیں کہ خلیفی حکومت کو غزہ کے محاصرے سے کتنا صدمہ پہنچا ہے! / العکر کا غذائی محاصرہ توڑنے کے لئے عظیم دھرنا / العکر میں مظاہرین کو سزا دینے کی دھمکی / العکر کا محاصرہ آل خلیفہ کا اختتام ثابت ہوگا / آل خلیفہ حکمران گھبراہٹ کا شکار / العکر کا محاصرہ آل خلیفہ کی فسطائیت کی دستاویز / العکر میں اشیائے خورد و نوش لانا بدستور منع ہے/ خلیفی وزیر داخلہ: بحرین میں احتجاج منع ہے/ حقوق سے چشم پوشی نہيں کریں گے

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق علاقے کے سب سے چھوٹے، سب سے ظالم اور سب سے بےشرم اور جھوٹے بادشاہ ـ جس نے آل سعود کی افواج کی مدد اور امریکہ، برطانیہ، فرانس اور یہودی ریاست (اسرائیل) کی حمایت سے اپنے زير تسلط ملک (بحرین) کو شدیدترین مصائب اور مسائل میں مبتلا کررکھا ہے اور عوام کو آزادانہ طور پر سانس لینے کی اجازت نہیں دے رہا ہے، اب اپنے ایک بیٹے کو نمائشی دورے پر غزہ بھجوارہا ہے تا کہ دنیا والوں کو بتائے کہ آل خلیفہ خاندان کو غزہ کے محاصرہ سے صدمہ پہنچا ہے حالانکہ غزہ کا محاصرہ گذشتہ 5 سال سے جاری ہے اور خلیفی بادشاہ اس عرصے میں اسرائیل کے ساتھ اپنا قریبی تعاون مسلسل جارے رکھے ہوئے ہے اور اب بھی اسرائیلی ریاست کے ساتھ رابطہ کرکے اور اس کی ناراضگی سے بچنے کے لئے اس کی اجازت لے کر ہی بیٹے کو روانہ کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس سے قبل دنیا بھر میں مذہبی فتنہ انگیزی میں فعال اور عرب انقلابات کو امریکہ اور اسرائیل کے حق میں ضبط کرنے کے لئے فعال کردار ادا کرنے والا قطری امیر خلیفہ بن حمد آل ثانی بھی اپنی بیگم موزہ کے ہمران صہیونی ریاست کی اجازت سے غزہ کا نمائشی دورہ کرچکا ہے۔

2


العالم کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں فلسطینی حکومت کے ترجمان "طاہر النونو" نے کہا ہے کہ اس ہفتے کے آخر تک بحرینی بادشاہ کے بیٹے ناصر بن حمد بن عیسی آل خلیفہ کی سرکردگی میں بحرین کے اعلی حکام کا ایک وفد غزہ کے دورے پر آرہا ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں بحرین کے سیاستدانوں اور قانوندانوں نے بعض تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے ثابت کیا ہے کہ ناصر بن حمد بحرینی عوام پر تشدد اور جیلوں میں انہیں ٹارچر کرنے میں بلاواسطہ طور پر ملوث رہا ہے۔

1


غزہ 2006 کے پارلیمانی انتخابات میں حماس کی کامیابی کے بعد صہیونی ریاست کے ہاتھوں محاصرے کا سامنا کررہا ہے اور یہودی ریاست سابق مصری آمر حسنی مبارک نیز شام کے سوا تمام عرب سربراہوں کی مدد سے یہ محاصرہ آج تک جارے رکھے ہوئے ہے اور یہودی ریاست نے 2006 میں لبنان پر 33 روزہ جنگ اور 2009 میں غزہ پر 22 روزہ جنگ مسلط کی تو آل خلیفہ، آل ثانی اور آل سعود اکثر عرب حکمران صہیونی ریاست کی صفوں میں نظر آئے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ عرب حکام کی غزہ کی چھ سالہ ناکہ بندی پر عرب حکمرانوں کی خاموشی کے بعد اب اچانک ان لوگوں کی طرف سے غزہ کے مظلوم عوام کی طرف توجہ، ایک تشہیری منظرنامے کے تحت منظر عام پر آئی ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ یہ حکام فلسطین سے لے کر اپنے ملکوں تک اقوام کو کچلنے اور قتل عام میں مصروف ہیں اور ساتھ ہی دوسرے مطلق العنانوں کے ہاتھوں دوسری اقوام کی سرکوبی اور قتل عام کی حمایت کررہے ہیں۔
ناصر بن حمد حمد بن عیسی آل خلیفہ کا بیٹا ہے جس کی سن پیدائش 1987 ہے۔ وہ ہے تو کمسن لیکن استبدادی نظام کے باعث بحرین رائل گارڈ کا کمانڈر بنا ہوا ہے۔ اس کا عہدہ صرف یہی نہیں ہے بلکہ وہ سپریم یوتھ اینڈ سپورٹس کونسل اور بحرین اولمپک کمیٹی کا سربراہ بھی ہے۔

دریں اثناء آل خلیفہ کے حکم پر اس ملک کے شہر "العکر" کا غذائی محاصرہ دو ہفتوں سے جاری ہے اور عوام کی عمومی صورت حال تشویشناک ہے۔

 بحرین: العکر کا غذائی محاصرہ توڑنے کے لئے عظیم دھرنا
انسانی حقوق اور جمہوریت کی دعویدار مغربی دنیا کا گرین سگنل اور العکر کا غذائی محاصرہ اور احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

3


اطلاعات کے مطابق بحرین کی جمعیۃالوفاق کے ایک راہنما نے کہا بحرین کے عوام نے آل خلیفہ اور آل سعود کے ہاتھوں محاصرہ شدہ قصبے "العکر" کا محاصرہ ختم کرنے کے لئے پیر کے روز عظیم دھرنا دیا۔
بحرین کی جمعيۃالوفاق الاسلامی الوطنی کے راہنما اور سابق رکن شوری' اور نوجوانان انقلاب 14 فروری کے رکن ابراہیم المدہون نے نے کہا کہ پیر کے روز بحرینی عوام نے العکر کا محاصرہ ختم کرنے کے لئے عظیم احتجاجی دھرنا دیا اور العکر کا محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے جائز مقاصد کے حصول کے لئے پرامن احتجاجی تحریک جاری رکھنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
انھوں نے کہا: نوجوانان انقلاب 14 فروری نے آج تک متعدد جلسوں، جلوسوں، ریلیوں، دھرنوں اور مظاہروں کا اہتمام کیا ہے اور انقلاب کو جاری رکھنے کے لئے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔
انھوں نے کہا: سیاسی جمعیتیں بھی بحرینی عوام کے ساتھ مل کر فعال ہیں اور بین الاقوامی سوشل سوسائٹی کی تنظیموں نيز انسانی حقوق کے اداروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

بحرین: خلیفی حکومت کی العکر میں مظاہرین کو سزا دینے کی دھمکی
آل خلیفہ کے حکمرانوں نے کہا ہے کہ جو گروپ سرکاری اجازت کے بغیر جلسے جلوسوں کا اہتمام کریں اور جو لوگ سرکاری طور پر غذائی محاصرہ کا نشانہ بننے والے قصبے "العکر" میں احتجاجی اقدامات کریں انہیں کڑی سزا دی جائے گی۔
اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے حکمرانوں نے بغیر اجازت کے مظاہرے کرنے والے گروپوں نیز العکر کے محاصرہ شدہ علاقے میں مظاہرہ کرنے والے عوام کو کڑی سزاؤں کی دھمکی دی ہے لیکن اس کے باوجود ہزاروں بحرینیوں نے بحرین کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت "جمعیۃالوفاق الاسلامی الوطنی کی حمایت سے العکر میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔
جمعیۃالوفاق ایک ہفتہ پہلے سے العکر کے ستم زدہ اور زیر محاصرہ عوام ـ جو آل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی قاتلوں سے تشکیل یافتہ پولیس کے ہاتھوں بدترین ظلم و تشدد برداشت کررہے ہیں ـ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کرنے کے درپے تھی لیکن آل خلیفہ کی حکومت نے الوفاق کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ العکر میں کسی قسم کے احتجاج کی اجازت نہيں دے گی۔

4


دریں اثناء الوفاق نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ اس نے العکر کے محاصرے کو توڑ دیا ہے۔ یہ علاقہ دوہفتے قبل پرامن مظاہرین پر حملہ کرنے والے ایک بیرونی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بعد ناکہ بندی اور محاصرے کا سامنا کررہا ہے اور بحرین پر مسلط مطلق العنان اور امریکی و برطانوی و فرانسیسی حمایت یافتہ آل خلیفہ حکومت ـ آل سعود کی مدد سے ـ دنیا بھر میں انسانی حقوق اور جمہوریت کی دعویدار حکومتوں اور تنظیموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر العکر کے عوام کو قرون وسطائی انداز سے اجتماعی سزا دے رہی ہے۔
تیونسی راہنما: العکر کا محاصرہ آل خلیفہ کا اختتام ثابت ہوگا
تیونس کے سیاسی راہنما نے کہا: بحرین میں مظاہروں پر پابندی العکر کے محاصرہ شدہ عوام کے کارناموں اور انقلابی اہداف کے حصول کے لئے بحرینی عوام کی استقامت کا نتیجہ ہے اور تمامتر نشانیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ آل خلیفہ کی حکومت اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے۔

5


اطلاعات کے مطابق تیونس کے سیاسی راہنما اور الناصریہ تحریک کے بانی رکن "خالدالکرشی" نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت میں اگر تھوڑی سے طاقت ہوتی تو وہ پرامن مظاہروں کا راستہ ضرور روک لیتی۔
انھوں نے کہا: آل خلیفہ کا یہ دعوی جھوٹا ہے کہ عوام سرخ لکیروں سے تجاوز کرگئے ہیں کیونکہ بحرینی عوام کے مظاہرے ماضی بعید سے آج تک ہمیشہ پرامن رہے ہیں اور ان کا پرامن انقلاب آل خلیفہ کے تمام جھوٹے دعؤوں کا جواب دینے کے لئے کافی ہے۔
بحرین: آل خلیفہ حکمران گھبراہٹ کا شکار
بحرینی راہنما نے العکر کے خلیفی محاصرے کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بحرین میں مظاہروں پر آل خلیفہ کی طرف سے پابندی نئی اور حیران کن نہ تھی کیونکہ آل خلیفہ انقلاب کے آغاز سے ہی اضطراب اور گھبراہٹ کا شکار ہے۔


اطلاعات کے مطابق جمعیۃالوفاق میں آزادیوں اور انسانی حقوق کے شعبے کے سربراہ سیدہادی الموسوی نے کہا ہے کہ آل خلیفہ کی طرف سے مظاہروں پر پابندی کے اعلانات حکمران خاندان کی شدید حیرت و گھبراہٹ کی علامت ہے اور اس خاندان کے متضاد بیانات اور عالمی سطح پر اس کی شدید بدنامی اور رسوائی اور شدید عوامی دباؤ کی وجہ سے اس خاندان کی حیرت زدگی سب پر واضح و آشکار ہوچکی ہے۔
انھوں نے کہا: انقلاب کے آغاز پر آل خلیفہ حکومت نے کہا کہ وہ میدان اللؤلؤۃ میں عوام کو مظاہرہ کرنے کی اجازت دے گی لیکن ایک مہینہ بعد ہم نے دیکھا کہ اس نے میدان اللؤلؤۃ کو تہس نہس کیا اور شہریوں کو قتل کیا۔
ہادی الموسوی نے آل خلیفہ کی عدالتوں میں عوام کے قاتلوں کو بری کئے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قاتل کو بری کرنا جرم سمجھا جاتا ہے۔

برطانوی قانوندان: العکر کا محاصرہ آل خلیفہ کی فسطائیت کی دستاویز
بحرین میں انسداد تشدد کمیونٹی کے سربراہ اور برطانوی قانوندان نے العکر کے عوام کو آل خلیفہ حکومت کی جانب سے اجتماعی ٹارچر کا نشانہ بنائے جانے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے اسے آل خلیفہ حکومت کی فسطائیت کا ثبوت قرار دیا۔


اطلاعات کے مطابق بحرین میں انسداد تشدد کمیونٹی (Community Against Torture In Bahrain) کے سربراہ اور برطانوی قانوندان، راڈنی شیکسپئر (Rodney Shakespeare) العالم کے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: آل خلیفہ نے بحرین ـ اور بطور خاص العکر ـ کے عوام کو اجتماعی تشدد کا نشانہ بنانے کے لئے ایسے حربے کا سہارا لیا ہے جس کو صہیونی ریاست غزہ میں استعمال کررہا ہے اور اس میں شک نہيں ہے کہ جو بھی حکومت عوام کے خلاف اس قسم کا حربہ استعمال کرے و فسطائی (Fascist) حکومت ہے۔
انھوں نے کہا: بحرین میں حمد بن عیسی آل خلیفہ کی بادشاہت کے سائے میں ہرگز ہرگز عدل و انصاف نافذ نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ مطلق العنان حکومت عوام پر اجتماعی تشدد کررہی ہے اور اس نے متجاوزین و جارحین اور عوام بےگناہ عوام کے جان و مال پر دست اندازی کرنے والے مجرموں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔
انھوں نے بحرین پر آل سعود کے گماشتوں کے قبضے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: آل سعود کی حکومت نے عملی طور پر بحرین پر قبضہ کررکھا ہے اور آل سعود اور آل خلیفہ چونکہ ڈکٹیٹر اور مطلق العنان بادشاہتیں ہیں لہذا انہیں فوری طور پر ختم ہونا چاہئے۔
انھوں نے مزید کہا: آل خلیفہ کے حکمرانوں پر انسانی حقوق کی پامالی، العکر کے علاقے کے غیرقانونی محاصرے اور بےگناہ عوام کے حق میں نازیوں کے طرز کے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے، عنقریب بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

بحرین: العکر میں اشیائے خورد و نوش لانا بدستور منع ہے
جمعیۃالعمل الاسلامی کے ایک راہنما نے کہا: آل خلیفہ خاندان مکارانہ اقدامات اور ظالمانہ تشہیری مہم کے ذریعے جتانا چاہتا ہے کہ گویا بحرینی عوام کا انقلاب ختم ہوچکا ہے اور صرف کبھی کبھی "تشدد آمیز" واقعات ملک میں رونما ہوتے ہیں۔


اطلاعات کے مطابق بحرین کی جمعیۃالعمل الاسلامی کے رہنما "ہشام الصباغ" نے العکر کے سرکاری محاصرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے العالم نیٹ ورک کو بتایا: العکر کی طرف جانے والے صرف بعض راستے کھلے ہوئے ہیں جبکہ سرکاری ناکے بدستور قائم ہیں، غیرمقامی افراد کو علاقے میں داخل نہیں ہونے دیا جاتا اور اشیائے خورد و نوش اس علاقے میں لانا بدستور ممنوع ہے۔
آل خلیفہ کی حکومت نے ایک بیرونی پولیس اہلکار کی ہلاکت کے بہانے دو ہفتوں سے العکر کا غذائی محاصرہ کررکھا ہے اور اس مدت کے دوران علاقے کے عوام کو اجتماعی طور پر سزا دینے کی پالیسی نافذ کی گئی ہے؛ العکر میں کرفیو کی سی کیفیت ہے اور آل خلیفہ کے گماشتوں نے آل سعود کے بھیجے ہوئے جلادوں کی مدد سے العکر میں آمد و رفت کرنے والے افراد کو زہریلی گیسوں کا نشانہ بنایا ہے۔

خلیفی وزیر داخلہ: بحرین میں احتجاج منع ہے
آل خلیفہ حکومت نے امن کے قیام کے بہانے ہر قسم کے مظاہروں اور دھرنوں پر پابندی لگانے کا اعلان کیا۔
اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کے وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ نے اس ملک کی سرکاری خبررسان ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ "قومی اتحاد و یکجہتی کی خاطر!" ہر قسم کے مظاہروں اور دھرنوں کو ممنوع ڈیکلئیر کردیں۔
راشد نے کہا: جو لوگ مظاہرہ کریں گے ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

7


وزیر کشور آل خلیفه در حالی از حفظ امنیت و وحدت ملی سخن می گوید که از فوریه سال گذشته اعتراضات مسالمت آمیز اکثریت مردم این کشور به کمک نظامیان سعودی و با پشتیبانی نظامی - لجستیکی آمریکا و انگلیس به شدت سرکوب شده است.
دریں اثناء آل خلیفہ کی حکومت نے 14 فروری 2011 سے شروع ہونے والے عوامی انقلاب سے لے کر اب تک عوام کے پرامن احتجاج کا جواب صرف لاٹھی، گولی، زہریلی گیسوں اور ممنوعہ ہتھیاروں سے دیا ہے اور اب تک ہزاروں افراد کو بے روزگار، ہزاروں کو اسیر اور ہزاروں کو شہید یا زخمی کیا ہے۔
آل خلیفہ کی طرف سے عوامی احتجاج کی ممانعت کے اعلان پر بین الاقوامی تنظیموں نے رد عمل ظاہر کیا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان پابندیوں کو عوام کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں انسانی حقوق کے فعال کارکنان اور سیاسی جمعیتوں کے بعض اراکین و راہنما عوام کو احتجاج دینے کے بہانے یا تو گرفتار ہوئے ہیں یا انہیں طویل المدت قید کی سزائيں سنائی گئی ہیں۔

بحرینی راہنما: بحرینی عوام اپنے حقوق سے چشم پوشی نہيں کریں گے
عبدالمجید السبع نے بدھ کے روز کہا: وزیر داخلہ کی طرف سے احتجاجی مظاہروں پر پابندی جنیوا کانفرنس کے منظور شدہ قوانین کی خلاف ورزی اور غیرقانونی ہے۔
اطلاعات کے مطابق جمعيۃالوفاق کے مستعفی رکن پارلیمان عبدالمجید السبع نے آل خلیفہ کے وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ آل خلیفہ کی طرف سے مظاہروں پر پابندی کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا:
آل خلیفہ حکومت مخالفین کے کچلنے کی پالیسی پر بدستور عمل کررہی ہے اور مظاہروں اور دھرنوں پر پابندی بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے حالانکہ یہ حکم بین الاقوامی قانون برائے شہری و سیاسی حقوق (International Covenant on Civil and Political Rights) اور بین الاقوامی کنونشن برائے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق (International Convention on Economic, Social and Cultural Rights) جیسے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


انھوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کا حکم حال ہی میں جنیوا میں منعقدہ کانفرنس کے منظور کردہ قوانین کے بھی منافی ہے جبکہ بحرین کے وزیر خارجہ اس کانفرنس میں شریک تھا اور اس نے ان شقوں پر عمل کرنے کا وعدہ بھی دے گیا تھا۔
انھوں نے کہا: خلیفی وزیر خارجہ کا دعوی ہے کہ آل خلیفہ حکومت آزادی اظہار کے قانون کا احترام کرتی ہے جبکہ وزير داخلہ کی دھونس دھمکیاں اور وزیر خارجہ کے ان دعووں کے بھی منافی ہے اور مظاہروں اور دھرنوں پر پابندی کا اعلان بھی غیرقانونی ہے اور ملک میں بدامنیوں کے خاتمے کا واحد راستہ یہ ہے کہ عوامی حکومت تشکیل دی جائے اور درباری شاہی کے مقرر کردہ اراکین حکومت پر مقدمہ چلایا جائے۔
انھوں نے کہا: امریکہ اور آل سعود کی حکومت بھی آل خلیفہ کی حکومت کو مزید قائم نہيں رکھ سکتی۔
انھوں نے کہا کہ وزارت داخلہ کے حکم پر کوئی بحرینی شہری عملدرآمد نہيں کرے گا۔

۔۔۔۔۔