30 اکتوبر 2012 - 20:30

میانمار میں تشدد کی تازہ لہر کے دوران 300 سے زائد مسلمان جاں بحق ہوئے ہیں جبکہ اس ملک کی حکومت نے مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے کےلئے مذاکرات سے متعلق آسیان تنظیم کی پیشکش مسترد کردی ہے-

ابنا: پریس ٹی وی نے اپنی آجکی رپورٹ میں میانمار میں مسلمانوں کے ایک رہنما کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ میانمار کے مغربی علاقوں میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کے دوران 300 سے زائدمسلمان جاں بحق اور 50 ہزار سے زائد بے گھر ہوئے ہیں –

میانمار کے سرکاری ذرائع نے اس سے قبل جاں بحق ہونیوالوں کی تعداد کو88 بتایا تھا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہےکہ حقیقی اعداد وشمار اس سے کہیں زیادہ ہیں –

ادھر میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام بند کرانے کیلئے سہ فریقی مذاکرات سے متعلق آسیان تنظیم کی پیشکش مسترد کردی ہے۔

 آسیان کے سیکرٹری جنرل سوان پتسوان نے تجویز دی تھی کہ آسیان، اقوام متحدہ اور میانمار حکومت کے درمیان مذاکرات کئے جائیں تاکہ خونریزی ختم کی جاسکے تاہم میانمار کی حکومت نے اسے داخلی معاملہ قرار دے کر سہ فریقی مذاکرات کی تجویز مسترد کردی۔
.....

/169