27 اکتوبر 2012 - 20:30

کون یقین کرسکتا ہے کہ مصر، تیونس اور لیبیا میں سیاہ آمریتوں کی حمایت کرنے والی حکومتیں اب شامی عوام کی جمہوریت پسندی کی حامی بن چکی ہیں؟ شام کا ماجرا، ایک ایسی حکومت سے انتقام کا ماجرا ہے جو تین عشروں سے تن تنہا غاصب صہیونیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور صہیونی یلغار کے مقابلے میں فلسطین اور لبنان کی مزاحمت کرنے والی جماعتوں کا دفاع کرتی آئی ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای ـ ادامَ اللہُ ظِلَّہُ العالی ـ نے حج بیت اللہ میں شریک مسلمانوں  کے نام اہم پیغام جاری کیا ہے۔ اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای ـ ادامَ اللہُ ظِلَّہُ العالی ـ نے حج بیت اللہ میں شریک مسلمانوں  کے نام اہم پیغام جاری کیا جس کا متن عرفات کے میدان میں برائت از مشرکین کے اجتماع کے موقع پر آپ کے نمائندے نے پڑھ کر سنایا۔پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم‌اللّه‌الرّحمن‌الرّحيم‌

الحمد للّه ربّ العالمين و صلوات اللّه و سلامه على الرّسول الأعظم الأمين و على آله المطهّرين المنتجبين و صحبه الميامين۔

موسم حج، رحمت و برکت سے سرشار ہوکر آن پہنچا اور ایک بار پھر ان سعادتمندوں اور خوش بخت انسانوں کو فیض الہی سے بہرہ مند کیا  جن کو اس نورانی وعدہ گاہ میں شرف حضور نصیب ہوا ہے۔ یہاں ہر لمحہ اور ہر جگہ ہر حج گزار کو معنی اور مادی ارتقاء کی دعوت دیتی ہے۔ یہاں مسلمان مرد و زن خدائے بزرگ کی طرف سے صلاح و فلاح کی دعوت پر دل و زبان سے لبیک کہتے ہیں یہاں سب کو برادری، ہمرنگی اور پرہیزگاری کی مشق کرنے کی فرصت ملتی ہے۔ یہاں تربیت و تعلیم کی اردوگاہ (Camp). ہے؛ امت اسلامی کی وحدت و عظمت و تنوع اور رنگارنگی کی نمائش گاہ ہے؛  شیطان اور طاغوت کے ساتھ آمنا سامنا کرنے کا اکھاڑا ہے۔ اس مقام کو خدائے حکیم م قدیر نے ایک ایسا ٹھکانا قرار دیا ہے جہاں :مؤمنین اپنے فوائد کا مشاہدہ کریں گے"۔ (1) جس وقت ہم عقل و عبرت آموزی کی آنکھ کھولیں گے یہ آسمانی وعدہ ہماری ذاتی اور معاشرتی زندگی کی پوری وسعتوں پر چھا جائے گا۔ حج کے شعائر اور نشانیوں کی خصوصیت دنیا اور آخرت کی آمیزش اور فرد و معاشرے کے اختلاط سے عبارت ہے۔ شاندار اور سادہ کعبہ، ایک استوار اور ابدی محور کے گرد جسموں اور دلوں کا طواف، ایک مبدء و منتہا اور آغاز و انجام کے درمیان مسلسل اور منظم سعی و کوشش؛ میدان عرفات اور مشعر کے حشر ساماں میدانوں کی طرف اجتماعی کوچ اور وہ کیفیت و حضور جو اس عظیم محشر میں دلوں کو خلوص و طراوت عطا کرتا ہے؛ شیطان کی علامتوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اجتماعی اور ہمگانی یلغار، ہر مقام سے، ہر رنگ و نسل سے اور ہر بو سے، ان تمام راز و رمز سے بھرپور اور معانی اور ہدایت کی علامتوں سے لبریز مراسمات میں ... اس پر معنی اور پر مضمون فریضے کی منفرد خصوصیات ہیں۔ اس طرح کے مراسمات جو دلوں کو خدا سے متصل کردیتے ہیں اور انسان کے دل کی خلوتوں کو تقوی اور ایمان کے نور سے روشن کردیتے ہیں، اور فرد کو خودی کے حصار سے نکال لاتے ہیں اور امت کے متنوع مجموعے میں ضم کردیتے ہیں؛ ایک طرف سے اس کو پرہیزگاری کا لباس پہنا دیتے ہیں جو کہ گناہ کے زہرآلود تیروں سے اس کی جان کی حفاظت کرتا ہے، اور دوسری طرف سے شیطانوں اور طاغوتوں پر حملہ کرنے کا جذبہ اس میں ابھار دیتے ہیں۔ یہيں سے حج گزار، امت اسلامی کی حدود کی وسعتوں کا ایک نمونہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ لیتا ہے اور اس کی قابلیت و صلاحیت کا ادراک بھی کرلیتا ہے اور  مستقبل سے اپنی امید بھی وابستہ کردیتا ہے، اور مستقبل میں کردار ادا کرنے کے لئے آمادگی بھی محسوس کرتا ہے، اور اگر اللہ کی توفیق اور امداد اس کے شامل حال ہوجائے تو پیغمبر عظیم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے تجدید بیعت بھی کرلیتا ہے اور اسلام عزیز کے ساتھ مستحکم میثاق بھی باندھ لیتا ہے اور اپنے ذات کی اصلاح اور امت کی اصلاح اور کلمۂ اسلام کی سربلندی کے لئے اپنے اندر عزم راسخ خلق کردیتا ہے۔ یہ دونوں ـ یعنی ذات اور امت کی اصلاح ـ دو  تعطیل ناپذیر فریضے ہیں۔ ان فرائض کو نبھانے کا طریقہ کار ـ دینی فرائض میں غور و تدبر اور عقلیت و بصیرت سے استفادہ لے کر ـ تدبر و تامل والوں کے لئے دشوار نہیں ہے۔اپنی ذات کی اصلاح شیطانی ہوی و ہوس کے خلاف جدوجہد اور گناہ سے اجتناب کی کوشش، سے شروع ہوتی ہے؛ اور امت کی اصلاح دشمن کو پہچاننے (دشمن شناسی) اور اس کے منصوبوں اور سازشوں کو پہچاننے اور دشمن کے واروں، مکاریوں اور عیاریوں اور دشمنیوں کو بے اثر کرنے کے لئے مجاہدت سے انتظام پاتی ہے۔ زمانے کے اس مرحلے میں، عالم اسلام کے اہم ترین مسائل میں سے ایک ـ جو  مسلم امّہ کی تقدیر سے جڑا ہوا ہے ـ شمالی افریقہ اور خطے میں انقلابی واقعات سے تعلق رکھتا ہے جو اب تک کئی بدعنوان اور امریکہ کی مطیع اور صہیونیت کی حلیف حکومتوں کے زوال پر منتج ہوئے ہیں اور اسی نوعیت کی دوسری حکومتوں پر لرزہ طاری کرچکے ہیں۔ اگر مسلمانان عالم اس عظیم موقع کو ضائع کریں اور اس سے امت اسلامی کی اصلاح کے لئے فائدہ نہ اٹھائیں، تو وہ نقصان عظیم سے دوچار ہوں گے۔ اس وقت جارح و متجاوز اور درانداز و ٹانگ اڑانے والا استکبار، ان عظیم اسلامی تحریکوں کو منحرف کرنے کے لئے سرگرم ہوچکا ہے۔ ان عظیم تحریکوں میں مسلم مرد و زن ـ ملتوں کی تذلیل و تحقیر اور جرائم پیشہ صہیونی ریاست کے ساتھ اتحاد و وابستگی کا سبب بننے والے ـ حکمرانوں کے استبداد و مطلق العنانیت اور امریکہ کے تسلط، کے خلاف اٹھے اور موت و حیات کی اس جدوجہد میں اسلام اور اس کی نجات دہندہ تعلیمات اور نصب العین کو اپنی نجات کا اصل عامل قرار دیا اور ان کا بلند آواز سے اظہار کیا۔ فلسطین کی مظلوم ملت کے دفاع اور غاصب ریاست کے خلاف جدوجہد کو  اپنے اہداف و مقاصد میں سرفہرست قرار دیا؛ مسلم اقوام کی طرف دوستی کا ہاتھ پھیلایا اور امت اسلامیہ کے اتحاد کی درخواست کی۔ یہ ان ممالک میں عوامی تحریکوں کے بنیادی اصول ہیں جنہوں نے گذشتہ دو برسوں سے آزادی اور اصلاح کا پرچم لہرایا اور جسم و جان لے کر انقلاب کے میدانوں میں حاضر ہوئے؛ اور یہی چیزیں ہیں جو عظیم اسلامی امت کے اصلاح کے بنیادی اصولوں کو استوار کرسکتی ہیں۔ اس بنیادی اصولوں پر استقامت، ان ممالک میں عوامی تحریکوں کی حتمی کامیابی کے لئے شرط لازم ہے۔ دشمن ان ہی بنیادی اصولوں کو متزلزل کرنے کے درپے ہے۔ امریکہ، نیٹو اور صہیونیت کے بدعنوان اور بد اعمال پٹھو بعض غفلتوں اور سطحی سوچوں سے فائدہ اٹھا کر مسلم نوجوانوں کی طوفانی تحریکوں کو منحرف کرنے اور انہیں اسلام کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار کرنے کے درپے ہیں اور استعمار و صہیونیت کے خلاف شروع ہونے والے جہاد کو عالم اسلام میں اندھی دہشت گردی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں تا کہ مسلمانوں کا خون مسلمانوں کے ہاتھوں، بہائیں تا کہ اسلام کے دشمن کو درپیش بندگلیوں سے چھٹکارا ملے اور اسلام اور اس کے مجاہدین بدنام کریں اور ان کا چہرہ بھیانک کرکے دنیاوالوں کے سامنے پیش کریں۔ انھوں نے ـ اسلام اور اسلامی نصب العین کو منظر عام سے ہٹانے سے ناامید ہونے کے بعد ـ اب اسلامی مکاتب اور فرقوں کو درمیان فتنہ انگیزی کا سہارا لیا ہے اور شیعہ فوبیا اور سنی فوبیا کی سازش کے تحت امت اسلامی امت کے اتحاد کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں۔ وہ خطے میں اپنے کٹھ پتلیوں کے ذریعے شام میں بحران آفرینی کررہے ہیں تا کہ ملتوں کی توجہ کو ان کے ممالک کے بنیادی مسائل اور ان کو درپیش خطروں اور چیلنجوں سے منحرف کریں؛ اور ایک خونی واقعے کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جس کے بانی و باعث وہ خود ہیں۔ شام میں خانہ جنگی اور مسلم نوجوانوں کو ـ ایک دوسرے کے ہاتھوں ـ قتل عام کرنا ایک ایسا جرم ہے جس کا آغاز امریکہ اور صہیونی ریاست اور ان کی پیروی کرنے والی حکومتوں نے کیا ہے اور وہی اس آگ کو ہوا دے رہی ہیں۔ کون یقین کرسکتا ہے کہ مصر، تیونس اور لیبیا میں سیاہ آمریتوں کی حمایت کرنے والی حکومتیں اب شامی عوام کی جمہوریت پسندی کی حامی بن چکی ہیں؟ شام کا ماجرا، ایک ایسی حکومت سے انتقام کا ماجرا ہے جو تین عشروں سے تن تنہا غاصب صہیونیوں کے مقابلے میں ڈٹی ہوئی ہے اور صہیونی یلغار کے مقابلے میں فلسطین اور لبنان کی مزاحمت کرنے والی جماعتوں کا دفاع کرتی آئی ہے۔ ہم شامی قوم کے حامی اور اس ملک میں ہر قسم کی بیرونی اشتعال انگیزی اور مداخلت کے خلاف ہیں۔ اس ملک میں ہر قسم کی اصلاح ملت شام کے اپنے ہاتھوں اور مکمل طور پر قومی روشوں سے ہونی چاہئے۔ یہ کہ بین الاقوامی تسلط پسند قوتیں اور ان کے فرمان پر کان لگائے علاقائی حکومتیں، کسی ملک میں کسی بہانے بحران کھڑا کریں اور پھر اسی بحران کو دستاویز بنا کر اس ملک میں ہر قسم کے انسانیت سوز مظالم کے مجاز قرار دیں، یہ ایک نہایت سنجیدہ خطرہ ہے کہ اگر علاقے کی حکومتیں اس خطرے کو ٹالنے کا اہتمام نہ کریں، تو انہیں اس استکباری حیلے کے تسلسل میں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑے گا۔ بھائیو اور بہنو! موسم حج، عالم اسلام کے اہم قضایا (Theorems) میں غور و تامل اور تدبر کا موقع ہے۔ علاقے کے انقلابات کا انجام اور زخم خوردہ قوتوں کی جانب سے ان انقلابات کو منحرف کرنے کی کوششیں، ان ہی قضایا میں سے ہیں۔ مسلمانوں کو درمیان اختلاف اور انتشار پھیلانے کی خائنانہ سازشیں اور قیام کرنے والے ممالک میں اسلامی جمہوریہ ایران اور مسئلۂ فلسطین کے سلسلے میں بدگمانیاں پھیلانے اور مجاہدین کو تنہا کرنے اور فلسطینی جہاد کو خاموش کرنے کی کوشش، مغربی حکومتوں کی جانب سے اسلام مخالف تشہیری مہم اور رسول اللہ الاعظم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی توہین کرنے والے عناصر کی حمایت، مسلم ممالک میں خانہ جنگیوں کا اہتمام کرنا اور بعض اسلامی ممالک کو تقسیم کرنا، انقلابی حکومتوں اور قوموں کو مغرب کی تسلط پسند قوتوں سے ٹکر لینے سے خوفزدہ کرنا اور ان میں اس توہم کو فروغ دینا کہ "ان کے مستقبل کا دار و مدار جارح و متجاوز قوتوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر سرتسلیم خم کرنے، پر ہے ... اور اس قسم کے دوسرے اہم اور حیاتی مسائل ان اہم مسائل اور قضایا میں سے ہیں جن پر حج کے موقع پر آپ حج گزاروں کو اتحاد اور یکدلی اور اتحاد و ہم فکری کے سائے میں غور و تدبر کرنا چاہئے۔ بے شک اللہ کی ہدایت و امداد، امن و سلامتی کے راستے کوشش کرنے والے مؤمنین کو دکھا دے گی: "وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا..." (2)

والسّلام عليكم و رحمة اللّه

سيّد على خامنه‌اى‌30 مهر 1391مصادف باپنجم ذى‌الحجه 1433

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1۔ اشارہ ہے سورہ حج کی آیت 27 کی طرف جہاں ارشاد ہوتا ہے: لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ ۔۔۔ تا کہ وہ اپنے فوائد کا مشاہدہ کریں اور معینہ ایام میں اللہ کو یاد کریں ...2. سورہ عنکبوت آیت 69۔ اور جو لوگ ہمارے راستے میں جہاد (اور کوشش) کرتے ہیں تو ہم یقیناً انہیں اپنی راہیں دکھا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110