21 اکتوبر 2012 - 20:30

طلال ابوظریفہ نے اپنے ایک بیان میں العالم اور پریس ٹی وی سمیت ایران کے 19 چینلز پر ہاٹ برڈ کی طرف سے پابندی کے یورپی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو ابلاغی آزادیوں سے متصادم قرار دیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک محاذ برائے آزادی فلسطین کے رکن "طلال ابوظریفہ" نے یورپی اقدام کی بیان اقدام سے متصادم قراد دیتے ہوئے کہا: جو سیٹلائٹ چینل مزاحمت تحریک کی حمایت کررہے ہیں وہ امریکہ اور اسرائیل کی نگاہ میں دشمن چینل سمجھے جاتے ہیں اسی وجہ سے وہ ان چینلز کے خلاف میدان جنگ میں اترے ہوئے ہیں اور انہيں ناظرین کی نظروں سے دور کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے قانونی اداروں، انسانی حقوق کے تحفظ کی علمبردار تنظیموں، عرب اخبار نویسوں کی ایسوسی ایشنز، سرحدوں کے بغیر صحافی تنظیم (Journalists without Borders)، اور اخبار و جرائد اور ذرائع ابلاغ کی آزادانہ فعالیت اور مخاطبین کو حقائق منتقل کرنے اور ابلاغی جعل سازی اور دھوکے بازی کی نفی، پر یقین رکھنے والوں سے اپیل کی ہے کہ اونچی آواز سے اس یورپی اقدام کی مذمت کریں اور یورپی ممالک سے احتجاج کریں۔ ابوظریفہ نے متنبہ کیا: ایرانی چینلز کو ہاٹ برڈ سیٹلائٹ چینل سے حذف کرنے کا یورپی اقدام نہایت خطرناک بدعت ہے جس سے ذرائع ابلاغ کی آزادی پامال ہوئی ہے اور دوسروں کی رائے کے احترام کا عملی انکار ہوا ہے۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

یورپ میں ایرانی چینلز پر پابندی؛ کیا بیان کی آزادی ڈھونگ ہے