30 ستمبر 2012 - 20:30

حلب میں مسلح دہشت گرد ٹولوں کا صفایا قطعی / شامی افواج نے کئی علاقے چھڑا لئے، درجنوں دہشت گرد ہلاک / دہشت گردوں کو مایوسی؛ اجتماعی خودکشیاں / انقرہ خونریزی کا ذمہ دار / جرمنی: شام میں لڑنے والے مسلح دہشت گردوں میں صرف پانچ فیصد شامی ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شامی اسٹراٹجسٹ نے کہا کہ حلب میں مسلح دہشت گرد ٹولوں کا صفایا قطعی ہے اور حلب کی لڑائی کے دوسرے علاقوں کی مانند، کسی قسم کے ضمنی اثرات نہيں ہونگے۔ شام کے تزویری امور کے حامی احمد الحاج علی نے اتوار کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حلب شام کا معاشی دارالحکومت ہے جس کی ترکی کے ساتھ بہت طویل سرحدیں ہیں لیکن اس کے خاص قسم کے جغرافئے، آبادی کے خاص ڈھانچے اور تاریخی پس منظر نیز وطن سے اس کی وابستگی اور وفاداری کے باعث اس میں اہم واقعات رونما ہوئے ہیں؛ مثال کے طور پر ہم دیکھ رہے ہیں کہ حلب کے عوام کی بڑی تعداد نے ترکی کے ساتھ طویل سرحدوں کی نگرانی کا بیڑا اٹھایا ہے اور وہاں امن و سلامتی کے قیام کے لئے کام کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا: میرے ملک کو اس وقت "بیرونی منصوبوں اور سازشوں" کا سامنا ہے اور دہشت گردوں کا صفایا کرنے میں تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ شامی فوج طاقت کے ساتھ ساتھ شرافت اور ذمہ دارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہے اور ہماری فوج کی کوشش ہوتی ہے کہ دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے عوام کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ پہنچے۔انھوں نے کہا: شام نے بارہا کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اخضر الابراہیمی کے مشن کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ابراہیمی کو ابتداء میں دہشت گردوں اور ان کے حامیوں کی باتیں سننے کی وجہ سے کافی مایوسی ہوئی تھی اور ان کا کہنا تھا کہ "شام کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کوئی راہ حل ڈھونڈنا ناممکن ہے"، لیکن جب انہیں حقائق کا علم ہوا اور تمام فریقوں سے ملے اور سب کی باتیں سنیں تو اب انہیں اندازہ ہوگیا ہے کہ شام کی صورت حال اگرچہ بہت دشوار اور پیچیدہ ہے لیکن اس ملک کے بحران کو حل کرنے کےلئے راہ حل ڈھونڈنا ممکن ہے۔ اور اب یہ امید ان کے موقف سے عیاں ہے۔

شامی افواج نے حلب کے کئی علاقوں کو دہشت گردوں سے آزاد کرایا/ درجنوں دہشت گرد ہلاکدریں اثناء شامی قوج نے حلب شہر کے مختلف علاقوں میں کاروائیاں کرکے ان علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق شام کی مسلح افواج نے العامریہ اور تل الزرازیر کو دہشت گردوں سے خالی کرادیا ہے اور ان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے ہے جبکہ دوسرے علاقوں میں کاروائیاں شدت و حدت کے ساتھ جاری ہیں۔اس رپورٹ کے مطابق درجنوں دہشت گرد شامی افواج کی کاروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں اور متعدد دہشت گرد ریف دمشق کے علاقے میں حراست میں لئے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، یہ درست ہے کہ ڈیڑھ سال پہلے کی نسبت دمشق میں عام زندگی میں کافی فرق آیا ہے لیکن یہ بھی درست ہے کہ دمشق کی سڑکوں پر عوام کی ریل پیل ہے اور لوگ اس شہر میں بدستور زندگی بسر کررہے ہيں اور دکانیں اور بازار بھی بند نہيں ہوئے ہیں۔حال ہی میں فوج کے ہیڈکوارٹرز پر بم حملوں کے بعد صرف چند گھنٹوں تک شہر کی سڑکیں سنسان ہوئی تھیں لیکن اس کے بعد عوام نے معمول کی زندگی کا آغاز کردیا۔ ایک شامی شہری نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے بعد دمشق کے بعض علاقوں میں رات گئے تھے حالات دھماکوں سے متاثر رہے لیکن صبح ہوئی تو لوگ اپنے اپنے کاموں پر چلے گئے اور زندگی معمول پر آگئي۔ شامی اخبار نویس سومر حاتم کا کہنا تھا: شام کے عوام کو معلوم ہے کہ ان کے ملک کو معاشی پابندیوں کا سامنا ہے چنانچہ وہ دوگنا محنت کرتے ہیں تا کہ ان پابندیوں اور سزاؤں کو شکست سے دوچار کرسکیں۔ اطلاعات کے مطابق حلب میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد درجنوں تک پہنچی ہے۔شامی افواج کے ریٹائرڈ میجر جنرل یحیی سلیمان نے العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بعض مسلح گروپوں جھوٹا دعوی کرتے ہیں شام کا پچھتر فیصد علاقہ ان کے کنٹرول میں ہے لیکن ایسا ہوہی نہیں سکتا؛ ہم دہشت گردانہ کاروائیوں اور عوام کے قتل عام کی مذمت کرتے ہیں اور ہمیں دہشت گردوں کی ناجائز خواہشیں پوری ہونے یا شام میں انہیں کوئی کامیابی ملنے کے آثار دکھائی نہيں دے رہے ہیں اور دہشت گردوں کی قسمت میں ناکامی اور بدنامی کے سوا کچھ بھی لکھا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔ ریف دمشق اور دوسرے علاقوں میں دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے اور بڑی تعداد میں دہشت گرد شامی افواج کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں جن میں متعدد افراد کا تعلق مختلف عرب ممالک اور افغانستان نیز پاکستان سے ہے۔ شام: مسلح دہشت گرد گروپوں میں مایوسی اور بے چینی پھیل گئی / اجتماعی خودکشیاںایک سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ مسلح دہشت گرد ٹولے متعدد کاروائیوں میں ناکامی کے بعد شدید قسم کی پریشانی، افراتفری، انتشار وار جنون کی حد تک مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوچکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق شام کے ایک تجزیہ نگار "عبداللہ المنینی" نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ مسلح دہشت گرد ٹولے کاروائیوں میں ناکامی اور شام کی مسلح افواج کی بروقت کاروائیوں کی وجہ سے مختلف علاقوں پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد شدید قسم کی پریشانی، افراتفری، انتشار وار جنون کی حد تک مایوسی اور بے چینی کا شکار ہوچکے ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق متعدد دہشت گردوں نے ناکامیوں کے بعد اجتماعی خودکشیاں کی ہیں۔عبداللہ المنینی نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں اور حتی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے  پس پردہ مسائل سے معلوم ہوا ہے کہ سب ممالک اور قوتوں کی کوشش یہی ہے کہ وہ بہت جلد مسلح گروپوں سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں اور دہشت گردوں کے حامی ممالک بھی اپنے آپ کو بےگناہ شامی عوام کے قتل عام سے بری الذمہ قرار دلوانے کی کوششوں میں مصروف ہیں حالانکہ ان کے ہاتھ شامی عوام کے خون میں رنگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: مسلح دہشت گرد گروپ "عنقریب بیرونی مداخلت" کے وعدوں اور شام میں بفر زون یا نو فلائی زون کے قیام سے مایوس ہوچکے ہیں لیکن پھر بھی باور کرانا چاہتے ہيں کہ ان تمام مسائل کے باوجود وہ موجود ہیں اور شامی حکومت کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ شام کو منہدم کرنے میں مصروف ہیں۔ انھوں نے کہا: صہیونی ریاست ترکی کو شام کے بحران میں گھسیٹ لانے میں کامیاب ہوئی ہے اور ترکی کی حکومت نے باغیوں کو پناہ دینے اور انہیں ہتھیار اور ترکی کی سرزمین پر تربیت فراہم کرنے اور انہیں شام روانہ کرنے کی صہیونی ـ امریکی ذمہ داری قبول کی ہے؛ آج ترکی اپنے تمام دوست ممالک کو کھوچکا ہے اور یہودی ریاست واحد حکومت ہے جو رجب طیب اردوگان کی قیادت میں جسٹس پارٹی کی قربت چاہتی ہے۔ المنینی نے کہا: ترک حکومت سیاسی اور فوجی لحاظ سے پریشان اور مایوس ہے یہاں تک کہ اس ملک میں فوجی قیادت کی طرف سے تنقید کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور فوجی قیادت کو یقین ہے کہ اردوگان حکومت نے اعلان کئے بغیر ترکی کو بہت سے ممالک کے خلاف جنگ میں جھونک دیا ہے۔ انھوں نے کہا: حال ہی میں اردوگان حکومت نے عراق کے صدر جلال طالبانی اور وزیر اعظم نوری المالکی کو ترکی آنے کی دعوت دی تو دونوں نے ان کی دعوت ٹھکرا دی اور وہ ترکی آنے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا: عراقی وزیر اعظم کا ترکی کا دورہ کرنے سے انکار اس بات کا ثبوت ہے کہ ترکی کے تعلقات شام ہی کے ساتھ نہیں بلکہ دوسرے پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی بحران اور تناؤ کا شکار ہوچکے ہیں اور ترکی اس وقت بحران، دہشت گردی اور تشدد کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ المنینی کا کہنا تھا کہ شامی عوام ترکی عوام کی طرف سے اردوگان حکومت کے جارحانہ اقدامات کی شدید مخالفت سے بخوبی آگاہ ہیں اور وہ ظالموں اور جارحوں کا جواب دے سکتے ہیں اور تاریخ اس حقیقت کو ثابت کرکے دکھائے گی کہ اردوگان حکومت نے ترک عوام کو کسی بھی حکومت سے زيادہ نقصانات پہنچائے ہیں۔ تیونسی راہنما: انقرہ شام میں جنگ اور خونریزی کا ذمہ دار ہےتیونس کی قومی عربی کانفرنس کے راہنما نے کہا: انقرہ شام میں بحران اور تناؤ پیدا کرنے اور ہزاروں افراد کے قتل عام کا ذمہ دار ہے۔اطلاعات کے مطابق احمد الکحلاوی نے انقرہ کو شام میں تناؤ پیدا کرنے اور ہزاروں افراد کے قتل کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اردوگان نے مسلح گینگز کی مالی اور فوجی مدد کرکے شام کے آباد شہروں کو ویران کردیا ہے۔تیونس کی قومی عربی کانفرنس کے راہنما احمد الکحلاوی نے اتوار کے روز العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: شام میں بحران کے آغاز ہی سے ترک حکومت کو مشن سونپا گیا تھا کہ شام کی صورت حال کو بحران اور تناؤ سے دوچار کردے۔ انھوں نے کہا: ترکی کی حکومت نے سب سے پہلے شام کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اور جو کردار ترکی شام میں ادا کررہا ہے ترک عوام کے غیظ و غضب کا سبب بنا ہوا ہے اور ترک قوم رجب طیب اردوگان سے سخت ناراض ہے۔ انھوں نے جنگ پسندوں کے اہداف و مقاصد کے بارے میں کہا: شام میں جنگ پسند قوتوں کی جنگ پسندی اور جنگجوئی کا ایک مقصد یہ ہے کہ شام کو فرقہ وارانہ فتنوں سے دوچار کیا جائے اور بین الاقوامی سازش کا ہدف یہ ہے کہ شام کو بھی لیبیا اور عراق کی طرح فرقہ وارانہ فتنے میں الجھا دے۔ انھوں نے کہا: شامی قوم اپنے ملک کو تقسیم کرنے کی تمام مغربی اور علاقائی سازشوں کو ناکام کرچکی ہے اور بعض مغربی اور علاقا‏ئی قوتیں شام میں بیرونی افواج کی مداخلت کے اسباب فراہم کرنے میں ناکام ہونے کے بعد اس وقت اس ملک میں فرقہ وارانہ اور مذہبی فتنہ انگیزی کے لئے کوشاں ہیں۔

جرمنی: شام میں لڑنے والے مسلح دہشت گردوں میں صرف پانچ فیصد شامی ہیںشام کے سیکورٹی ماہرین نے کہا ہے کہ شام میں لڑنے والے مسلح دہشت گردوں میں صرف پانچ فیصد افراد کا تعلق شام سے ہے اور باقی کا تعلق بیرون ملک سے ہے۔ اطلاعات کے مطابق جرمن اخبار ڈایولٹ نے اپنی رپورٹ میں سلامتی کے امور کے ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام مخالف نام نہاد "فری سیرین آرمی" میں شامی باشندوں کی نسبت صرف پانچ فیصہ ہے اور اس گروپ میں شامل باقی افراد کا تعلق دوسرے ممالک سے ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کی انٹیلیجنس ایجنسی کے پاس فری سیرین آرمی میں افرادی قوت کی صحیح تعداد اور ان کی تعیناتی کے مقامات نیز ان افراد کی قومیت کے بارے میں میں بالکل درست معلومات موجود ہیں۔دوسرے اہم جرمن اخبار ڈایولٹ (Die Welt) نے نے ایک اعلی جرمن سیکورٹی افسر کا نام ظاہر کئے بغیر اس کے حوالے سے لکھا ہے کہ شام میں حکومت کے لڑنے والے عسکریت پسندوں میں زیادہ تر افراد لیبیا اور چند دوسرے افریقی ممالک سے ہے جو بعض عرب ممالک کی اعلانیہ مالی اور فوجی حمایت و امداد سے شام میں پہنچا دیئے جاتے ہیں۔اس جرمن افسر نے ڈایولٹ کو شام میں لڑنے والے مسلح دہشت گرد عناصر کے بارے میں بتایا کہ جرمنی کے پاس ان لوگوں کے اعداد و شمار موجود ہیں گو کہ ان افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اس افسر کے مطابق 2011 کے آخر میں ان عسکر