14 ستمبر 2012 - 19:30

فلسطین کی منتخب حکومت کے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ نے مغربی کنارے میں اقتصادی بحران کو اوسلو معاہدے کے بے سود ہونے کی علامت قراردیا ہے۔

ابنا: فلسطین آلان ویب سائٹ کے مطابق اسماعیل ہنیہ نے غزہ میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران  کہا کہ مغربی کنارے  کے لوگ اقتصادی بحران کی وجہ سے مظاہرے کررہے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوسلو اور پیرس معاہدے ابتداء ہی سے ناکام رہے ہیں۔ اسماعیل ہنیہ نے مزید کہا  کہ صہیونی ریاست نے جارحیت جاری رکھنے، فلسطینیوں میں تفرقہ ڈالنے اور ان کے حوصلے پست کرنے کی غرض سے اوسلو معاہدے کو مسلط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ صہیونی ریاست  کے ساتھ طے شدہ تمام معاہدوں کو منسوخ کردے اور قدس کی غاصب حکومت کے ساتھ تمام اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی تعاون ختم کردے۔ یاد رہے مغربی کنارے میں صہیونی ریاست کی وعدہ خلافی کی وجہ سے روز بروز معاشی صورتحال خراب ہوتی جارہی جس سے تنگ آکر عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مغربی کنارے  کی آبادی چھبیس لاکھ پچاس ہزار ہے۔ واضح رہے کہ فلسطینی انتظامیہ نے صہیونی ریاست کے ساتھ کئي معاہدے کئے ہیں جن کے تحت نہ صرف اس نے صہیونی ریاست کو بہت سی مراعات دی ہیں اور صہیونی ریاست آئے دن صیہونی کالونیوں کی تعمیر میں مسلسل اضافہ کررہی ہے ۔...../169