5 ستمبر 2012 - 19:30

ایک بحرینی سیاسی راہنما کا کہنا تھا کہ ہمیں مرسی سے منصفانہ موقف اپنانے کی توقع نہیں ہے کیونکہ المرسی ایک معینہ عالمی قاعدے کی پیروی کررہے ہیں اور وہ درحقیقت حسنی مبارک کی حکومت کے وارث اور جانشین ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرینی تنظیم "قومی اقدام برائے حمایت انقلاب و استقامت بحرین" (National initiative to support the the revolution Sustainability of Bahrain) کے کوآرڈینیٹر محمد کاظم الشہابی نے قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس کے دوران المرسی کی تقریر میں بحرین کی طرف اشارہ نہ ہونے کی طرف کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا: ہمیں المرسی سے منصفانہ موقف اپنانے کی توقع نہیں ہے کیونکہ مرسی ایک معینہ عالمی قاعدے کی پیروی کررہے ہیں اور وہ درحقیقت حسنی مبارک کی حکومت کے وارث اور جانشین ہیں۔الشہابی نے بدھ (5ستمبر2012) کو العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: بحرین کی خلیفی حکومت کو عوام کے خلاف ظالمانہ اقدامات کرنے میں واشنگٹن، لندن، تل ابیب، ریاض اور عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے جس کی بنا پر وہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی دعوتوں اور رپورٹوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتی۔انھوں نے کہا: امریکہ اور سعودی عرب آل خلیفہ حکومت کے عوام دشمن اقدامات کی کھلی حمایت کررہے ہیں جبکہ آل خلیفہ حکومت کا اپنا کوئی سیاسی عزم و ارادہ نہیں ہے اور اس کے فیصلے واشنگٹن اور ریاض میں ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا: بحرین میں سیاسی قیدیوں کی رہائی یا قید کے فیصلے واشنگٹن اور ریاض میں ہوتے ہیں۔انھوں نے کہا: بحرین میں انسانی حقوق کی صورت حال کے بارے میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی نشستیں عنقریب جنیوا میں شروع ہورہی ہیں لیکن آل خلیفہ حکومت نے اپنا ریکارڈ صاف کرنے کی غرض سے قیدیوں کو رہا کرنے کی بجائے 13 اہم راہنماؤں کو احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی بنا پر قید اور دیگر سزائیں سنائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک نے اس حکومت کو گرین سگنل دیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جنیوا کی نشستوں میں کسی قسم کا اقدام نہيں ہونے دیں گے چنانچہ وہ انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہی ہے کیونکہ اس کو کہیں سے بھی کسی دباؤ کا سامنا نہيں ہے۔ الشہابی نے بدھ (5ستمبر2012) کو قاہرہ میں ہونے والے عرب لیگ کے اجلاس میں المرسی کی تقریروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: المرسی نے اپنی تقریروں میں شام، فلسطین، یمن، عراق، سوڈان اور صومالیہ کی طرف اشارہ کیا لیکن بحرین کا نام تک نہيں لیا تا ہم ہمیں بحرین کے سلسلے میں المرسی سے کوئی بھی منصفانہ موقف اپنانے کی توقع نہيں ہے کیونکہ وہ ایک معینہ اور طے شدہ ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔انھوں نے کہا: المرسی حسنی مبارک کے جانشین اور وارث ہیں؛ مصر میں افراد تبدیل ہوگئے ہیں لیکن حکومت کی اصل ہیئت اور جوہری وجود میں کوئی تبدیلی نہيں آسکی ہے اور خارجہ پالیسی میں مصری حکومت کے ارادے واشنگٹن کے تابع ہیں۔بحرینی راہنما نے مزید کہا: میرا یہ مدعا المرسی کے انتخاب سے لے کر آج تک کے موقف کے عین مطابق ہے اور المرسی حسنی مبارک کا مشن آگے بڑھا رہے ہیں۔............/110