ابنا: پاکستان نے کہا ہے کہ وہ اپني سرزمين پر ہونے والے غيرقانوني ڈرون حملوں کا مسئلہ حل کرنے کے ليے امريکا سے رابطے ميں ہے اور مختلف آپشن زير غور ہيں. ترجمان دفترخارجہ نے اسلام آباد ميں ميڈيا کو بريفنگ ميں بتايا کہ ڈرون حملوں میں پاکستان کا کوئی کردار نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی اداروں کی نشاندہی پر ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ حملے پاکستان کی سلامتی اور خود مختاری کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈرون حملوں کے مسئلے کے دو طرفہ حل کے لیے متعدد تجاویز زیرِ غور ہیں۔ ترجمان نے ہندوستانی رياست آسام ميں مداخلت سے متعلق ہندوستانی وزيرداخلہ کے پاکستان پر الزام کو قابل افسوس قرار ديتے ہوئے کہ ہندوستان کے پاس ايسي کوئي اطلاع ہے تو پاکستان کے ساتھ شيئر کرے. .......
/169