ابنا: مولانا غلام رسول نوری نے تمام عالم اسلام کو ماہ مبارک رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا: پروردگار عالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جس نے ہم کو اپنا مہمان بنا کر ہم پر عنایت فرمائی۔ ماہ مبارک رمضان کوئی معمولی مہینہ نہیں ہے بلکہ جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی مہمانی کی طرف بلاتا ہے۔ اب ہمارے لئے اس سے بڑھکر شرف کیا ہوسکتا ہے کہ ہم جیسے حقیر اور معمولی انسان کی میزبانی خود خالق کائنات کرتا ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت بڑی کرامت و منزلت ہے۔ اسی لئے قرآن میں ارشاد ہوا کہ ‘اس ماہ مبارک میں تمہارے لئے کرامت ہی کرامت ہے’۔ نبی اکرم (ص) نے فرمایا کہ ‘یہ اللہ کا دسترخوان ہے اور اس دسترخوان پر ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کو آنکھوں نے دیکھا ہی نہیں اور کسی کان نے سنا ہی نہیں۔ کسی کے دل میں ایسی نعمتوں کا خیال آ ہی نہیں سکتا’۔ لہٰذا رمضان المبارک روزہ دار کے لئے کرامت ہے اور اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے۔ ہم سب کو اس نعمت کا احترام کرتے ہوئے رسول اکرم (ص) کے اس حدیث مبارک پر عمل کرنا چاہئے کہ اگر روزہ دار کو کوئی برا بھی کہے یا کوئی ایسی بات کہے جو انسان کے شان کے خلاف ہو تو جواب یہی دینا چاہئے ‘اِنّی صائم سلام علیہ’’ یعنی میں اللہ کے دسترخوان پر بیٹھا ہوں لہٰذا میری طرف سے تمہارے لئے سلامتی ہی سلامتی ہے۔ میرے ہاتھ ،پیر ، آنکھ یا میرے کسی اعزاز سے تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ میں تم کو برا نہیں کہہ سکتا، میں تم کو گالی نہیں دے سکتا۔
مولانا نوری نے مزید کہا: ماہ رمضان پوری کائنات کے لئے سلامتی کا پیغام لیکر آتا ہے۔ اگر ہم اس بات کو طے کریں گے کہ ہم روزہ دار ہیں اور ہماری کسی بھی حرکت سے کسی کو ٹھیس نہیں پہنچنی چاہئے تو ہمارا معاشرہ کتنا امن و سلامتی والا بن جائے گا۔ ہر انسان کی عزت و آبرو، جان و مال سب کچھ محفوظ رہے گا۔ ہمیں چاہئے کہ اللہ کے دسترخوان پر بیٹھ کر اللہ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کی خدمتوں کے لئے آمادہ ہوجائیں۔
.......
/169