ابنا: حیدر القطبی نے کہا کہ سعودی عرب میں صرف عام آدمی پر قانون لاگو ہوتا ہے اور شاہی خاندان کے افراد ہر طرح کے جرم کا ارتکاب کرنے کی صورت میں بھی قانون سے مستثنی رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں عوام بے چینی کا شکار ہیں اور یہ بے چینی صرف شیعہ علاقوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ سارے سعودی عرب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ علاقوں کے خلاف کھلم کھلا امتیازی پالیسیاں اپنائي جاتی ہیں اور شیعہ مسلمانوں کو حکومت، پولیس، فوج اور وزارتخانوں میں نوکریاں نہیں دی جاتیں۔ حیدر القطبی نے کہا کہ آل سعود کے علاوہ دیگر سنی قبیلوں کا بھی یہی حال ہے اور ایک سنی قبیلہ تو ایسا ہے جس میں آج تک کوئي وزیر نہیں بن سکا ہے۔ ادھر لبنان کے ایک صحافی اور تجزیہ نگار نے کہا ہے آل سعود علاقے میں دہشتگردی کی حامی ہے ۔ رضا رزق نے کہا کہ شام ، چیچنیا ، ازبکستان اور ديگر ملکوں میں سرگرم عمل دہشتگردوں کو سعودی عرب کا پیسہ پہنچانے میں لندن کے ایج بی سی بینک کے تعاون کے انکشاف سے معلوم ہوتا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت دہشتگردی کی حامی ہے۔ رضا رزق نے کہا کہ آل سعود کے بہت سے افراد القاعدہ سے رابطے میں ہیں اور اس دہشتگرد تنظیم کی مالی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب ساری دنیا میں انتہا پسندی اور شدت پسندوں کی مدد کرتا ہے۔
.......
/169