17 جولائی 2012 - 19:30

جمعیت مسلمانان ہند کے سربراہ پروفیسر بصیر احمد خان نے میانمار میں مسلمانوں کا قتل عام فوری طور پر روکے جانے پر تاکید کی ہے۔

ابنا: پروفیسر بصیر احمد خان نے آج نئي دہلی میں ایک گفتگو میں میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے  مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عالمی برادری بالخصوص عالمی ادارے ان مظالم پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ ادھر علمائے الازھر نے بھی ایک بیان جاری کرکے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ میانمار میں مسلمانون کے قتل عام اور ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف مختلف ملکوں میں میانمار کے سفارتخانوں کا گھیراؤ کیا جائے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے بھی اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ میانمار کی فوج اور پولیس نے دسیوں ہزار مسلمانوں کو گھروں سے نکال کر ان کے گھر مسمار کردئے ہیں۔ میانمار  کے مسلمان حکومت کے تشدد سے تنگ آکر بنگلادیش فرار ہو رہے ہیں، اس دوران دسیوں افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ہیں۔ میانمار نے مسلمانوں کے حقوق کا انکار کرتے ہوئے کہا ہےکہ مسلمانوں کا مسئلہ حل کرنے کی واحد راہ انہیں مہاجر کیمپوں میں بسانا ہے۔ میانمار میں تقریبا دس لاکھ مسلمان ہیں۔ اسلامی تعاون تنظیم نے بھی میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کی ہے۔

........

/169