ابنا: علامہ ناصر عباس جعفری جس وقت سٹیج پر مومنین سے خطاب کرنے کے لئے آئے تو لاکھوںکی تعداد میں حسینی چوک میں جمع عزاداران حسین علیہ السلام نے جو یہاں اکسٹھ ہجری روز عاشور کو کربلا میں گرمی اور شہداء کی پیاس کی یاد میں جمع ہیں ،نے ان کااستقبال استغاثہ شبیری ھل من ناصر ینصرنا پر لبیک یا حسین علیہ السلام کہتے ہوئے کیا۔ علامہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ فرزندان ملت جعفریہ کی قومی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے سے ظلم ، ناانصافی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ ہم نے معاشرے کو یزیدی فکر اور ظلم و بربریت سے نجات دلانی ہے اور اپنی مظلومیت کو طاقت میں بدلنا ہے۔ دور حاضر میدان میں حاضر رہنے کا متقاضی ہے اور ہمیں اپنی ملی وحدت اور طاقت کے ساتھ میدان میں حاضر رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہی کربلا کے وارث ہیں اور کربلا ہمیں ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتی ہے۔ آج گھروں میں بیٹھنے کا نہیںمیدان میں حاضر رہنے کا وقت ہے۔ اگر ہم گھروں میں بیٹھے رہیں گے اور اپنے حقوق کی آواز بلند نہیں کریں گے تو پھر وہی ہو گا جو آج سے چودہ سو سال پہلے ہوا کہ جب لوگ اپنے گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں تو حق کی آواز اٹھانے والوں کے گلے میں رسی ڈال دی جاتی ہے اور اہل بیت علیھم السلام کے گھرانے کو بازاروں میں پھرایا جاتا ہے۔
.......
/169