1 جولائی 2012 - 19:30

آج سےچوبیس سال قبل امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کےایک مسافربردارطیارےکواپنی جارحیت کا نشانہ بناکرمارگرایاتھا۔اس مناسبت سےاپنےایک پیغام میں اسلامی جمہوریہ ایران کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف سید حسن فیروز آبادی نے کہا ہے کہ امریکی جنگی بیڑے کے ہاتھوں ایران کے مسافر بردار طیارے کے گرائے جانے کے المناک اور دہشتگردانہ واقعہ کو نہ تو ملت ایران فراموش کرسکتی ہے اور نہ ہی اسے تاریخ سے مٹایا جا سکتا ہے۔

ابنا: سید حسن فیروزآبادی نے امریکی بحری بیڑے کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے مسافر بردار طیارے کے گرائے جانے کے واقعے کو چوبیس سال مکمل ہونے کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکہ کے ہاتھوں انجام پانے والا یہ المناک واقعہ امریکہ کی ریاستی دہشتگردی کا ایسا ثبوت ہے جو ہر سال حریت پسند اور بیدار ضمیر انسانوں کو فیصلے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے مسافر بردار طیارے پر امریکہ کے بزدلانہ حملے کو چوبیس سال مکمل ہونے کے موقع پر خلیج فارس میں دو سو اٹھانوے نہتے اور مظلوم ایرانی مسافروں کی شہادت کی جگہ پر پھول برسائے گۓ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کامسافربردارجہازجو دبئی کی طرف رواں دواں تھا خلیج فارس کے پانیوں میں "وینسنس" نامی امریکی بحری جنگی جہازسے اس طیارے پرمیزائل فائرکیاگیاجس کےنتیجےمیں مسافربردارطیارہ تباہ ہوگیا۔اس سانحے میں طیارے پر سوار تمام 298 مسافر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اوراس طرح امریکہ نےانسانیت کےخلاف اپنےجرائم میں ایک اوراضافہ کرلیاجس نے ثابت کر دیا کہ امریکہ اس قدر گستاخ اور سرکش ہےکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی معیاروں کوروندتےہوئے حتی مسافر بردار طیاروں کو بھی حملے کا نشانہ بناتا ہے۔ ایران کے مسافر بردار طیارے کے گر کر تباہ ہونے کے بعد امریکی حکام نے اس ناقابل معافی جرم کی توجیہہ کے لئے متضاد دلائل پیش کرنے شروع کئے اور اس دشمنانہ اقدام کو ایک غلطی قرار دینے کی کوشش کی، لیکن جدید ترین ریڈار اور کمپیوٹر سسٹموں سے لیس جنگی بحری جہاز وینسنس کی کارکردگی سے معلوم ہو گیا کہ غلطی کا امکان موجود نہیںتھااورامریکی فوجیوں نےانسانیت کےخلاف اس جارحیت کاارتکاب جان بوجھ کرکیاتھا۔اوراس کاسب سےبڑاثبوت آچ بھی دنیاکےمختلف علاقوں میں بےگناہ عوام پرامریکی فوجی جارحیت ہے ۔کیونکہ اگرامریکہ کوانسانوں کی زندگیوں کاخیال ہوتاتووہ یمن وافغانستان اورپاکستان کےبےگناہ قبائلی علاقےکےعوام کوآئےدن اپنےفوجی حملوں کانشانہ نہ بناتا۔چنانچہ حقیقت یہ ہےکہ امریکہ کی سرکشی اورجارحیت کاسلسلہ اب بھی جاری ہے ۔جوکبھی ایران میں ظاہرہوتاہے توکبھی عراق ویمں میں اورکبھی افغانستان وپاکستان میں۔

پاکستان ایک آزاد اورخودمختارملک ہونےکی حيثیت سےامریکی جارحیت پرگاہےبہ گاہےآواز بھی بلندکرتاہے لیکن دہشتگردی کےخلاف جنگ کےبہانےدوہزارآٹھ سے امریکہ پاکستان کےقبائلی علاقوں پرالقاعدہ اورطالبان کااڈہ ہونےکےبہانےبم برساتارہتاہے اوربےگناہ عوام کےخون سےہولی کھیلتاہے ، پاکستان کےقبائلی علاقوں پرامریکی ڈرون کےحملےاب کوئي نئی بات نہيں رہے امریکی حکومت کی جارحیت پر پاکستانی حکومت کےعہدیداروں بالخصوص وزیرخارجہ، وزیراعظم اورصدرپاکستان بارہا احتجاج کرچکےہيں لیکن قبائلی علاقوں میں امریکی جارحیت میں کوئی کمی نہيں آئي ہے ۔

جس سےیہی پتہ چلتاہےکہ یاتوپاکستانی حکومت کےمطالبےمیں زور نہيں ہے یاامریکہ اتنا منہ زوراورڈھیٹ ہےکہ اسےملکوں کی خودمختاری اوراقتداراعلی کی پرواہ نہيں ہے، دوسری صورت میں صرف ایک ہی راستہ نظرآتاہےکہ علاقائی ممالک اپنی سیکورٹی اورارضی سالمیت کےمعاملےمیں اغیارکےبجائےاپنی ذات اور علاقائی اورپڑوسی ممالک پربھروسہ کریں اورکسی طرح کی جارحیت کامقابلہ کرنےکےلئےمتحدہوکرجارح طاقت کوایسامزہ چکھائيں کہ وہ دوبارہ اس طرح کی غلطی نہ کرے اوراس کی مثال بھی ایران نےدنیاکےسامنےپیش کی ہے اورامریکہ کوایساسبق سکھایاہے کہ وہ پھر کبھی ایران کےخلاف فوجی جارحیت کاسوچ بھی نہيں سکتااوراس کی واضح مثال طبس میں امریکہ کی فوجی کاروائي کوناکام بنادینا اور ابھی حال میں اس کےڈرون طیارے کواپنےکنٹرول میں لےکرزمین پراتارلینااوراسےاپنےقبضےمیں رکھناہے۔....... /169