10 جون 2012 - 19:30

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے کہا ہےکہ ایران اور آئي اے ای اے کےدرمیان بہت جلد ایک معاہدہ ہونےوالا ہے جس کی رو سے مذاکرات کا نیا دور شروع ہوگا۔

ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے العالم سے گفتگو میں کہا کہ تہران پارچین فوجی مرکز کے معائنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا مگر اس کےلئے ضروری ہے کہ یہ معائنہ باہمی معاہدے کے مطابق ہو۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے تعلق سے ایٹمی ایجنسی کے تمام سوالوں کے جواب دے دئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی بدستور ایران کے ایٹمی معاملے کے حل کے راستے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

علی اصغر سلطانیہ نے کہا کہ ایران نے دوہزار پانچ میں پارچین سائٹ کے معائنے کی اجازت دی تھی اور آئي اے ای اے کے وفد نے اس سائٹ کا معائنہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے دوہزار چھ میں دوطرفہ معاہدے کے تحت ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے چھ سوالوں کے جواب دئے تھے اور ایجنسی نے جواب وصول کرنے کا اعلان بھی کیا تھا تاہم مغرب کے دباؤ میں مسئلے کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا ہے۔.......

/169