26 مئی 2012 - 19:30

بغداد مذاکرات کے بعد اسلامی جمہوريۂ ایران کے مضبوط مواقف اور ایران کی نویں پارلیمنٹ کے افتتاح کو عالمی ذرائع ابلاغ نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔

ابنا: لندن سے شائع ہونے والے اخبار " الشرق الاوسط " نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران نے مغربی ممالک کے ابہامات اور بیانات کے جواب میں تین مستحکم مواقف اختیار کئے۔اس اخبار نے پارچین سائٹ کے معائنے ، یورینیم کی بیس فی صد افزودگی اور ایک نئے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیرکے بارے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے مواقف کو بغداد مذاکرات کے بعد مغربی ممالک کے مواقف پر تہران کی طرف سے مستحکم جواب قراردیا ہے۔لندن سے ہی شائع ہونے والے ایک اور اخبار " الحیات " نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران پارچین سائٹ کے معائنے کے لئے تیار نہیں ہوا ہے۔تہران نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ یورینیم کی بیس فی صد افزودگی کو روکنے کا کوئي جواز نہیں ہے۔

اس رپورٹ میں پارچین سائٹ اور نئے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر کے بارے میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے ایٹمی توانائي کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی کے حالیہ بیانات کا بھی ذکر کیا گيا ہے۔روزنامہ " الشرق الاوسط " نے ایک خبر میں ایران کی نویں پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے کام کے آغاز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران کے رہبر انقلاب اسلامی نے اراکین پارلیمنٹ سے کہا ہے کہ وہ اپنے دینی فریضہ کے بارے میں سوچیں۔

مذکورہ اخبار نے ایک تصویر بھی شائع کی ہے جس میں صدرمملکت احمدی نژاد اور تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ایک ساتھ پارلیمنٹ میں داخل ہوتے دکھائي دے ر ہے ہیں۔لبنان سے شائع ہونے والے اخبار " المنار" کی سائٹ پر بھی ایک رپورٹ ہے جس میں ایران کی نویں پارلیمنٹ کے افتتاح کے سلسلے میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوريۂ ایران کی پارلیمنٹ کا نواں دور اعلی ایرانی حکام کی موجودگي میں شروع ہوگيا۔المنار نے یورینیم کی افزودگی روکے جانے سے ایرانی انکار کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔

لبنان کے ہی ایک دیگر اخبار " السفیر " نے ایران کے ایٹمی توانائي کے ادارے کے سربراہ فریدون عباسی کے حوالے سے ایران کے ایٹمی معاملے کی تازہ صورت حال کے بارے میں ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے ایجنڈے میں ایک نئے ایٹمی بجلی گھر کی تعمیر شامل ہے۔مذکورہ اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ بغداد مذاکرات میں ایرانی وفد کی کامیابیاں یہ تھیں کہ ان مذاکرات میں ایران کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ دیکھنے میں نہیں آيا اور مذاکرات کا اگلا دور مغرب کی درخواست کے برخلاف جنیوا کے بجائے ماسکو میں انجام پائے گا۔

ادھر امریکی خبر رساں ایجنسی " اے پی " نے ایرانی پارلیمنٹ کے نئے اسپیکر کے انتخاب کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے اور لکھا ہے کہ پیر کے دن ایک سو ستر اراکین پارلیمنٹ نے اسپیکر کے عہدے کے لئے علی لاریجانی کے حق میں ووٹ دیا۔روزنامہ " القدس العربی " نے آج اپنی ویب سائٹ پر ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ایران نے ایٹمی تنصیبات کی تعمیر کے سلسلے میں اتنی پیش رفت کرلی ہے کہ اس کے پاس اس وقت جدید ٹیکنالوجی کی حامل تنصیبات ہیں اور اسی وجہ سے امریکہ اور اسرائيل کی جاسوسی کی تنظیمیں ان تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کرسکتیں۔اس اخبار کے مطابق ایران نے بغداد مذاکرات میں ایسے حالات میں شرکت کی کہ وہ حیرت انگيز طور پر ایٹمی ایندھن کی تیاری کے سلسلے میں خود کفیل ہوچکا ہے اور ایران کے پاس دشمنوں کے کسی بھی امکانی حملے سے مقابلے کے لئے بہت مضبوط دفاعی میزائل نظام بھی موجود ہے۔.......

/169