14 مئی 2012 - 19:30

ویانا میں کل اسلامی جمہوریہ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہوا۔ مذاکرات کا یہ دور بند کمرے میں انجام پایا اور اس میں نامہ نگاروں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئي تھی۔

ابنا: یہی وجہ ہے کہ ویانا میں پانچ گھنٹوں تک جاری رہنے والے ان مذاکرات کی کوئي رپورٹ منظر عام پر نہیں آئي ہے۔ یہ مذاکرات ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے نائب سربراہ ہرمان ناکاراتس کی موجودگی میں آج بھی جاری رہیں گے۔ دریں اسلامی جمہوریہ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے حکام نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ انھوں نے مثبت اور تعمیری سوچ کے ساتھ ویانا مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ جس سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ فریقین کا مشترکہ مقصد ایران کے ایٹمی معاملے سے متعلق باقی ماندہ تمام مسائل کے حل کے سلسلے میں اتفاق راۓ حاصل کرنا ہے۔

ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اس سطح کے مذاکرات اس سے پہلے بھی کر چکے ہیں جس سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ مذاکرات سے فریقین کا مقصد باہمی تعاون تک پہنچنا ہے۔ اور یہ چیز یورپ کے اس حلقے کے لۓ خوش آئند نہیں ہے جو ایران اور ایٹمی تونائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان بامقصد مذاکرات میں خلل ڈالنے کے لۓ شکوک و شبہات کا اظہار اور مذاکرات کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ ایران کے خلاف غیر قانونی اور غیر معقول پابندیوں پر مبنی ناکام پالیسی جاری رکھنے پر اصرار بھی اسی منفی سیاست کا ایک حصہ ہے۔

ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات اس وجہ سے بھی اہم ہیں کہ آئندہ ہفتے بغداد میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان بھی جامع مذاکرات کا دوسرا دور ہونے والا ہے جو درحقیقت ترکی کے شہر استنبول میں چودہ اپریل کو ہونے والے مذاکرات کا نتیجہ ہیں اور ان کا ویانا میں جاری مذاکرات کے ساتھ قریبی تعلق ہے کیونکہ ان دونوں مذاکرات کا مشترکہ مقصد اعتماد سازی اور باہمی تعاون کے لۓ مشترکہ نکات کی بنیاد پر اتفاق راۓ پیدا کرنا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ ان مذاکرات میں ملت ایران کے اعتماد کے حصول کی کوشش کی جاۓ گی۔ اس سلسلے میں دو امور مذاکرات کو جلد از جلد فریقین کے لۓ منطقی اور قابل قبول نتیجے تک پہنچانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں۔

پہلا امر یہ ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اپنے مطالبات کو شفاف طور پر بیان کرے اور این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں باہمی تعاون کی واضح تعریف پیش کی جاۓ۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس سے پہلے بھی پارچین جیسی اپنی فوجی تنصیبات کے معائنے پر مبنی ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے مطالبے کے سلسلے میں اس ایجنسی کےساتھ تعاون کرچکا ہے حالانکہ ایسا کرنا ایران کے فرائض میں شامل نہیں تھا۔ اور اب بھی وہ سمجھوتے کے تحت اس طرح کے معائنے کا راستہ ہموار کرنے کے لۓ آمادہ ہے اس سے پتہ چلتا ہےکہ ایران اپنی ایٹمی سرگرمیوں کے پرامن ہونے کے اطمینان کے ساتھ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھے گا۔

دوسرا امر ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں کی جانب سے نیک نیتی کا مظاہرہ اور ایران کا اعتماد حاصل کیا جانا ہے۔ البتہ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی ان دونوں کلیدی اور اہم امور کو پیش نظر رکھے ہوۓ ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کے بھی قرائن موجود ہیں کہ ماضی کی طرح اس مرتبہ مذاکرات سے پہلے ماحول کو خراب نہیں کیا جاسکا ہے اس لۓ توقع کی جارہی ہے کہ ویانا اجلاس مشترکہ مقاصد کے حصول کے سلسلے میں مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔....... /169