ابنا: علی اصغرسلطانیہ نے این پی ٹی معاہدےپرنظرثانی کےلئےمقدماتی کانفرنس میں کہاکہ اگراس معاہدےپرپوری طرح عمل کیاجائےتو عالمی امن وثبات میں اہم کردارادا کیاجاسکتاہے۔ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں ایران کےمستقل نمائندے نے صیہونی حکومت کےساتھ امریکہ اوراس کےیورپی اتحادی برطانیہ اورفرانس کےایٹمی تعاون سمیت ان ممالک کی جانب سے این پی ٹی معاہدے کی متعدد خلاف ورزیوں پرشدید تنقید کی۔اور اسےاین پی ٹی معاہدےکی کھلی خلاف ورزی قراردیا۔
دنیاکےایٹمی گوداموں میں ستائیس ہزار سےزيادہ ایٹمی ہتھیاروں کاذخیرہ ایک تلخ اورناقابل انکارحقیقت ہے جس نےعالمی امن وصلح کونصف صدی سےخطرےسےدوچارکررکھاہے۔یہ خطرات صرف اس وجہ سےجاری ہیں کہ ان ہتھیاروں کےحامل ممالک این پی ٹی معاہدےکی پابندی نہیں کررہےہیں۔
درحقیقت این پی ٹی معاہدےپرعمل درآمد میں اصلی روکاوٹ ممالک کےساتھ دہرےمعیارات کا اختیار کیاجاناہے یعنی ممالک کودوگروہ خاص اورعام میں تقسیم کرکےخاص ممالک کومثتثنی کرناہے ۔ یورپی ممالک میں امریکہ کی جانب سےسیکڑو ایٹمی ہتھیار تعینات کرنا جوامریکہ اور میزبان ملکوں کی جانب سے اس معاہدےکی کھلی خلاف ورزی شمارہوتی ہے این پی ٹی معاہدےکی بابت دہرے رویےکا نتیجہ ہے۔
ان دہری پالیسیوں نےایسی حالت ميں عالمی امن وثبات کوخطرے سےدوچارکردیاہےکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےرکن ممالک کواپنےجائزحقوق کےلئے بھی سیاسی روکاوٹوں اورخلاف ورزیوں کاسامناہے۔ یہ امتیازی سلوک بڑی عالمی طاقتوں کی جانب سےبین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور آئی اے ای اے جیسےاداروں کی کمزوری پرمنتج ہورہاہے ۔این پی ٹےمعاہدےپرنظرثانی اجلاس میں امریکی نمائندے کےسات مئی کےبیانات اسی نکتےکاعکاس اور این پی ٹی معاہدےکوہتھکنڈےکےطورپراستعمال کئےجانےکاثبوت ہیں ۔
ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں امریکی نمائندے رابرٹ ہڈ نے ویانا میں آئی اے ای اے کی کانفرنس میں ایران پرایٹمی معاہدےکی پابندی نہ کرنےکاالزام لگایا۔امریکی نمائندے نےدعوی کیاکہ عالمی برادری کواس بات کی تشویش ہےکہ ایران کہیں اسے آئی اے ای اے کےنمائندوں کواپنےمدنظرمقامات، اطلاعات اوردستاویزات تک دسترسی کی اجازت نہ دے۔
یہ تکراری دعوےایسےعالم میں سامنےآرہے ہيں کہ ایران اورگروپ پانچ جمع ایک کےدرمیان مذاکرات کادوسرامرحلہ تیئس مئی کوبغداد میں ہونےوالا ہے اور مغرب کےدشمنانہ رویےمیں تبدیلی ہی مذاکرات جاری رکھنےکےلئےبحالی اعتماد کاباعث ہوسکتی ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی حالت میں ایران کےحقوق کونظراندازکرناقابل قبول نہيں ہے اورصرف دعوؤں سے مذاکرات میں کسی طرح کی پیشرفت نہيں ہوسکتی ۔
اس بنا پر توقع ہےکہ مذاکراتی فریق ایسی منزل پرپہنچ جائيں کہ این پی ٹی معاہدےکی شقوں پرعمل درآمد کویقینی بنائيں اور ایٹمی معاملےمیں حقیقت پسندانہ پالیسیاں اختیارکرتےہوئےسچائی کامظاہرہ کریں تاکہ اس سلسلےمیں ایران کےساتھ مشترکہ موقف اختیارکریں جس طرح کہ ایران ، تعمیری اور نئی تجاویزکےساتھ استنبول میں مذاکرات کےنئےمرحلےمیں داخل ہوا۔
اس وقت توقع ہےکہ ایران کےپرامن ایٹمی پروگرام کےخلاف ماحول تیارکرنےکاسلسلہ جلدسےجلد ختم کیاجائے گااوراستنبول بغداد معاہدےکےنتائج ایران کےایٹمی پروگرام کےبارےمیں بےبنیاد دعوؤں کےخاتمےکاآغاز ہوں گے۔....... /169