ابنا: خیر پور میرس میں مقامی عدالت نے آج گرفتار کئے گئے تیرہ شیعہ نوجوانوں کی درخواست ضمانت مسترد کر دی ہے جبکہ کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گرد جو کہ ۲۸ اپریل کو خیرپور میں شیعہ عمائدین کی دکانوں کو نذر ااتش کرنے میں ملوث تھا کو عدالت سے رہا کر دیا ہے۔ خیرپور میرس میں ۳۰ اپریل کو منعقد ہونے والی ’’لبیک یا حسین علیہ السلام ‘‘ کانفرنس کے انتظامات کرنے والے تیرہ شیعہ نوجوانوں کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق خیر پور میرس میں ۳۰ اپریل کو ’’لبیک یا حسین علیہ السلام ‘‘ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا جس موقع پر متعصب پولیس انتظامیہ نے خیر پور میں ’’لبیک یا حسین علیہ السلام کانفرنس ‘‘ کو ناکام بنانے کے لئے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی تھی جبکہ گرفتار کئیے گئے شیعہ نوجوانوں کو اس جرم میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ’’لبیک یا حسین علیہ السلا م کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا تھا۔واضح رہے کہ ۲۸ اپریل کو خیر پور میرس میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے ناصبی وہابی دہشت گردوں نے شیعہ عمائدین کی املاک پر حملے کئے تھے اور متعدد شیعہ عمائدین کی دکانوں کو نذر آتش کر دیا تھا تاہم پولیس انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی تھی ۔لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ شیعہ نوجوانوں کو ’’لبیک یا حسین علیہ السلام ‘‘ کانفرنس کے انتظامات کرنے کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا ۔دوسری جانب شیعہ عمائدین کی دکانوں کو جلائے جانے میں ملوث اور رنگے ہاتھوں گرفتار ہونے والا ناصبی وہابی دہشت گردجس کاتعلق کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی سے ہے کو آج انسداد دہشت گردی کی اسی عدالت نے رہا کر دیا ہے جس عدالت نے ۱۳ شیعہ نوجوانوں کی ضمانت مسترد کی ہے۔انسداد دہشت گردی کی عدالت میں تیرہ شیعہ جوانوں کی درخواست ضمانت پیش کرنے والے مجلس وحدت المسلمین پاکستان کے وکیل جعفر شاہ ایڈووکیٹ نے شیعت نیوا کے نمائندے سے بات چیت رتے ہوئے بتایا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے آج بے گناہ شیعہ نوجوانوں کی درخواست ضمانت کو مسترد کر دیا ہے کہ جن پر دفعہ ۱۴۴ کو توڑنے کا الزام لگایا گیا ہے اور دسری جانب کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگو ی کے ناصبی وہابی دہشت گرد کریم مری کو رہا کر دیا ہے کہ جس نے شیعہ عمائدین کی دکانوں کو مورخہ ۳۰ اپریل کو نذر آتش کیا تھا اور رنگے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا۔جعفر شاہ ایڈووکیٹ کاکہنا تھا کہ وہ پیر کے روز ہائی کورٹ میں اپیل دائر کریں گے اور شیعہ بے گناہ نوجوانوں کی بے گناہی ثابت کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
جمعہ کو شیعیان خیرپور کی طرف سے جیل بھرو تحریک کا اعلانخیرپور کی موجودہ صورتحال پر خیرپور شیعہ سپریم کونسل کا ایک طویل اور انتہائی اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ خیرپور انتظامیہ کی مسلسل نا انصافیوں اور متعصبانہ پالیسوں اور بے گناہ شیعوں کی بلاجواز گرفتایوں کے خلاف جیل بھروتحریک شروع کی جانی چاہیے۔ واضع رہے کہ خیرپور میں کالعدم دہشت گرد گروہ سپاہ صحابہ کھل کر شیعہ مسلمانوں کو جانی ومالی نقصانات پہنچارہا ہے۔ شیعہ مسلمانوں کے رزق حلال کا ذریعہ یعنی ان کی دوکانوں تک کو جلادیا ہے؛ کئی امام بارگاہوں پر حملے کئے گئے ہیں اور مقدسات کو بھی نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن بجائے دہشت گردوں کو گرفتار کر کے سزادلونے کے، خود شیعہ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، حد تویہ ہے کہ بے گناہ شیعہ مسلمانوں کا قانونی دفاع کرنے والے وکلاء کو بھی جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا ،حال ہی میں شیعہ علماء کونسل نے احتجاجی جلسہ منعقد کیا تو ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کردیا گیا.
۔۔۔۔۔۔۔۔
/110