اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق مڈل ایسٹ آنلائن نے ہفتہ 28 اپریل کو لکھا کہ بڑی تعداد میں سعودی سیاسی و سماجی شخصیات، مفکرین اور دانشوروں نے نائف بن عبدالعزیز کے ساتھ مستقبل کے سعودی بادشاہ کے عنوان سے بیعت کرنے سے انکار کردیا ہے اور سیاسی و سماجی شخصیات اور دانشوروں نیز مفکرین نے اپنا متعلقہ بیان سعودی سول و پولیٹیکل سوسائٹی (حسم) کی ویب سائٹ پر شائع کیا۔ حسم 2009 میں تأسیس پانے والا ادارہ ہے اور اس کی ویب سائٹ پر دانشوروں اور فکری و علمی شخصیات کا مشترکہ بیان صارفین کی جانب سے سراہا گیا اور ہزاروں عرب شہریوں نے اس کا خیرمقدم کیا۔
آل سعود کے حامیوں نے دعوی کیا ہے کہ حسم کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے بیان کا کوئی خیرمقدم نہیں ہوا اور ویب سائٹ میں آنے والوں میں سے صرف تین فیصد افراد نے اس بیان پر دستخط کئے ہیں جن میں سے 20 افراد بے روزگار تھے! تاہم اس سوسآئٹی کے ایک رکن "فوزان الحربی"، نے سرکاری لابی کے اس دعوے کے رد عمل میں کہا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی آئین نہيں ہے، سول سوسائٹی کا کوئی ادارہ نہيں اور اس ملک میں سیاسی جماعتوں کا وجود تک نہيں ہے اور حکومت پر کسی قسم کا دباؤ لانا، جرم سمجھا جاتا ہے، اس کے باوجود اس بیان کا خیرمقدام ایک ایسے ملک میں، بہت اچھا اور خوشآیند تھا۔
فعال سیاسی و سماجی شخصیت نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ آل سعود کے شہزادوں میں نائف بن عبدالعزيز سب سے زیادہ سفاک، خونخوار، سنگدل اور نہایت مستبد اور خود رائے اور بہت زیادہ بے رحم ہیں۔
انھوں نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا ہے کہ اتنے سارے جرائم و مظالم سعودی بادشاہت کا معیار سمجھے جاتے ہیں؟ کیا یہ ولایت عہدی ان کو اہل سنت اور اسلام کے نام پر زیادہ سے زیادہ ٹارچر، تشدد، ظلم و ستم اور آزار و اذیت کی ترغیب نہیں دلا رہی ہے؟
اس بیان پر حسم سوسائٹی کے تمام اراکین، متعدد مبلغین اسلام، مفکرین اور سعودی اپوزیشن کے راہنماؤں منجملہ ریاض کی جامعۃ الامام کے سابق پروفیسر اور حسم کے بانی رکن "عبد الله الحامد" (ابو بلال)، سابق سعودی جج اور قانوندان اور وکیل "سلیمان إبراهیم الرشودی" نے دستخط کئے ہیں۔ ان افراد کو اس سے پہلے بھی آل سعود کی پالیسیوں پر تنقید کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑی ہیں۔
بیان پر دستخط کرنے والوں نے آل سعود کے خاندان سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ سعودی بادشاہت کر لئے نائف کی نامزدگی اور ولایت عہدی پر نظر ثانی کرے اور یوں ثابت کرے کہ سعودی حکمران واقعی حقوق کی پامالی اور ظلم و ستم کے جاری سلسلے پر راضي نہیں ہیں۔
اس بیان میں زوردے کر کہا گیا ہے کہ بادشاہ کی طرف سے نائف کو ولایتعہدی کے لئے نامزد کیا جانا، بے شک بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی طرف سے اعلان شدہ اصلاحات کے دوسرے مرحلے کے نفاذ اور بادشاہ کے دیئے گئے وعدوں پر عملدرآمد کا راستہ بند ہوجائے گا اور سعودی بادشاہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے دیئے گئے وعدوں پر عمل کریں۔
اس بیان میں قانوندانوں، سیاسی و سماجی شخصیات اور عام لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اس بیان پر دستخط کریں اور اس بیان میں درج شدہ مطالبات پر عمل کرانے کے لئے راستہ ہموار کریں جبکہ بیان میں مندرجہ مطالبات میں نائف ابن عبدالعزیز پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔یاد رہے کہ حسم نے اس بیان میں اور اس سے پہلے شائع ہونے والے بیانات میں وزارت داخلہ میں موجود انسانی حقوق کو پامال کرنے والے عناصر کی گرفتاری، ان کے لئے "سزا سے اِستثنا کا قانون" منسوخی اور انہیں عدلیہ کی تحویل میں دینے کا مطالبہ کیا ہے تا کہ ان کے بارے میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں تا ہم سعودی بادشاہ نے ان تمام خطابوں، درخواستوں اور بیانات کو نظر انداز کیا ہے اور ان کے سلسلے میں کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔
فوزان الحربی کا کہنا تھا کہ شہزادہ نائف ہی ہیں جو تقریبا 35 برسوں سے عملی طور پر ملکی انتظام کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں اور وہ سعودی عرب میں انسانی حقوقی کی تمام تر خلاف ورزیوں کا اصلی سبب اور براہ راست مجرم ہیں۔
انھوں نے کہا کہ نائف بن عبدالعزیز کی طرف سے انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزیوں کے ساتھ ساتھ سعودی معاشرے میں موجود سیاسی اور سماجی دراڑیں بھی ان مظالم اور جرائم کا سبب گردانے جاتے ہيں۔ کیونکہ سعودی عرب ایسا خاص ملک ہے جہاں کوئی آئین نہیں ہے، سیاسی جماعتیں نہيں ہيں، سول سوسائٹی کے متعلقہ ادارے نہيں ہیں اور پورے ملک میں سعودی خاندان کے صرف تین افراد ہیں جو فرمانروائی کررہے ہیں اور اس کے تمام انتظامات اپنے قبضے میں لئے ہوئے ہیں اور اس قسم کی انتظامی صورت حال سے بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ مطلق العنانیت فساد اور برائی کی جڑ ہے اور مطلق اقتدار مطلق فساد کا سرچشمہ ہے۔
انھوں نے کہا: ہم آج آل سعود خاندان کو یادآوری کراتے ہیں کہ ہم بلاد الحرمین کے عوام اس خاندان کے زرخرید اور گروی نہيں ہیں اور بے شک آل سعود کا یہ تصور بہت سوں کے لئے بہت مہنگا پڑے گا اور یہ خاندان آل سعود اور ولیعہد کے مفاد میں ہوگا کہ اپنے عوام کے ساتھ صلح و آشتی اور امن و مفاہمت کے دروازے سے آکر بات کریں اور ملک کی تعمیر کے نئے مرحلے کی طرف قدم اٹھائیں اور سول سوسائٹی کے اداروں کی بنیاد رکھیں یا پھر اس طرح کے اداروں کی تشکیل کے لئے اجازت نامہ جاری کریں کیونکہ یہ اصلاحات کے ہدف تک پہنچنے کا مختصر ترین اور نہایت سستا راستہ ہے۔انھوں نے کہا: آج بلاد الحرمین پارلیمانی بادشاہت یا آئينی بادشاہت کا مطالبہ کررہے ہيں اور سعودی خاندان اس مطالبے کو مسلسل مسترد کرتا رہا ہے چنانچہ سعودی حکمرانوں کو جان لینا چاہئے کہ آنے والے کل کا عوامی نعرہ "جمہوریت" کا قیام ہوگا۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
بلادالحرمین کی مفصل خبریں؛قاہرہ ـ ریاض تعلقات کیمپ ڈیوڈ کے بعد بدترین صورت حال سے دوچار