ابنا: دو مہينے سے زيادہ کے عرصے سے جيل ميں بھوک ہڑتال کرنے والے عبدالہادي خواجہ کي گرفتاري کے خلاف ہونے والے مظاہرے کے دوران زينب خواجہ کو گرفتار کيا گيا تھا۔ايمنسٹي انٹرنيشنل نے اپنے ايک بيان ميں بحريني حکام سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ زينب خواجہ کو فوري اور غیر مشروط طور پر رہا کرے۔ ایمنیسٹی انٹر نیشل نے حکومت بحرین پر انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانوں سےس کھیلنے بھی الزام عائد کیا ہے-
زينب خواجہ کو عارضي حراست ميں رکھا گيا ہے اور ان کي حراست ميں مزيد ايک ہفتے کي توسيع کر دي گئي ہے۔
ايمنسٹي انٹرنيشنل نے کہا ہے کہ زينب خواجہ کو اکيس اپريل کے دن دارالحکومت منامہ کے قريب ايک دھرنے سے گرفتار کيا گيا تھا جو ان کے والد عبدالہادي خواجہ کي گرفتاري کے خلاف احتجاج کے طور پر ہوا تھا۔
واضح رہے کہ عبدالہادي خواجہ نے جنہيں بحرين کي آل خليفہ حکومت نے عمر قيد کي سزا دي ہے اس فيصلے کے خلاف جيل ميں آٹھ فروري سے بھوک ہڑتال کر رکھي ہے۔
ادھر واشنگٹن نےپہلي بار بحريني سيکورٹي فورس کي جانب سے عوام کے خلاف کيے جا رہے تشدد کي مذمت کرتے ہوئے اس ملک کے لوگوں کے قتل عام کي بات تسليم کي ہے۔امريکا نے بحريني حکام سے کہا ہے کہ وہ پوري طرح سے تحمل کا مظاہرہ کريں۔.......
/169