13 اپریل 2012 - 19:30

کوئٹہ میں دہشتگردوں کی مسلسل کاروائیوں سے حکومت اورانتظامیہ کی کارکردگی پرسوالیہ نشانہ اور ایک بدنما داغ آن پڑھا ہے . ویسے توگزشتہ 10 سالوں سے اہل تشیع پرکوئٹہ میں ظلم جاری ہیں لیکن اپریل کے مہینےمیں تودہشتگردوں کی بزدلانہ کاروائیوں میں مزید تیزی آگئی ہے ۔

ابنا: 3 اپریل 2012 کومیکانگی روڈ پرشام کے وقت دہشتگردوں نے فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں 2 افراد محمدباقر اور اکبرعلی شہید ہوگئے ۔

اسی دوران اسپنی روڈ پرعلمدارروڈ سے ہزارہ ٹاون کی طرف جانے والی ٹیکسی کونشانہ بنایا لیکن ٹیکسی میں سوار تمام افراد محفوظ رہیں ۔

9 اپریل 2012 کوپرنس روڈ پردہشتگردوں کی فائرنگ سے مزید 6 شیعہ شہید ہوگئے ۔
12 اپریل 2012 کوقندھاری بازارمیں‌ دکان پربیٹھے شیع نوجوانوں پردہشتگردوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2 افراد شہید ہوگئے ۔ جبکہ اسی دوران 15 منٹ کے وقفے پر کچھ ہی فاصلے پر جوس کی دکان پردہشتگردوں کی فائرنگ سے 1 شیعہ مسلمان شہید ہوگیا ۔

13 اپریل 2012 کو عبدالستارروڈ پرایک مرتبہ پھر شیعہ مومن اکبرعلی کوٹارگٹ‌ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا  جسکے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے ۔ اسی دوران عالموچوک پرموٹرسائیکل پرسوارنوجوان اورخاتون پربزدل دہشتگردوں نے فائرنگ کی ۔ فائرنگ سے شیعہ خاتون فاطمہ اور ان کا بیٹا شدید زخمی ہوگئے ۔

14 اپریل 2012 کوبروری روڈ اورسبزل روڈ پرپھردہشتگردو‌ں نے فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں 8 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوگئے ۔

.....

/169 - 110