ابنا: درین اثناء خواتین نے اپنی چوڑیاں صوبائی اسمبلی بلڈنگ پر پھینکیں اور انھیں اسمبلی گیٹ پر آویزاں کرکے کہا ہےکہ اگر عوام کے منتخب نمائندے ان کی حفاظت سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داریاں نہیں نبھاسکتے تو اپنی گھروں میں بیٹھے۔خواتین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس میں مختلف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بزدل دہشت گرد مردوں کو نشانہ بناتے تھے، اب وہ خواتین کو نشانہ بنانے سے بھی نہیں ہچکجاتے جو قبائلی اور اسلامی روایات کے منافی ہے۔انھوں نے کہا ہے کہ صوبائی وزیر داخلہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انھیں ان سماج دشمن عناصر سے متعلق علم ہے ۔ اگر وزیر اعلی حکم دیں تو وہ ان کیخلاف ایکشن لے سکتا ہے جبکہ حکومت ہزارہ نسل کشی پرخاموش ہے۔انھوں نےچیف جسٹس آف پاکستان سے بلوچستان میں جاری ہزارہ نسل کشی کی ازخود نوٹس لینےکا پرزور مطالبہ کیا۔اس موقع پر انھوں نے ہزارہ عوام کو تحفظ نہ دینے پر حکومت کیخلاف شدیدنعرے بازی کیں۔......./169
3 اپریل 2012 - 19:30
News ID: 306385
ہزارہ نسل کشی کے ردعمل پر ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے شعبہ خواتین نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے سامنے شدید احتجاج کیا ہے۔ اس دوران صوبائی اسمبلی کا اجلاس جاری تھا جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری بلوچستان ہائی کورٹ بلڈنگ میں تھے۔-