2 اپریل 2012 - 19:30

علی پور مظفر گڑھ میں تعزیتی جلسے سے خطاب میں علامہ سید ساجد علی نقوی نے خبردار کیا ہے کہ مکتب تشیع کو نصیریت میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اس بگاڑ کو طاقت سے روکیں گے۔

علامہ سیدساجد علی نقوی نے حدیث نبوی (ص) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: علماء انبیاء (ع) کے وارث ہیں۔ اسی فرمان رسول (ص) پر عمل پیرا ہو کر علماء نے عوام کی رہنمائی اور رہبریت کا فریضہ سرانجام دیا۔ جنوبی پنجاب مین موثر شخصیت علامہ حافظ محمد ثقلین نقوی نے عوام کی رہنمائی کی۔ آخر تبلیغ دین کرتے کرتے 19 فروری 2012 کو اپنے آبائی گاوں بکھن شاہ سے واپسی پر گھات میں بیٹھے دشمنان دین کی گولیوں کا شکار ہو گئے۔ انہیں بہاولپور ہسپتال منتقل کیا گیا مگر 27فروری کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انہیں 28 فروری کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ چھ نامزد اور دو نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 2012/67 تھانہ سٹی علی پور میں درج کیا گیا مگر ابھی تک کوئی ملزم گرفتار نہیں کیا گیا۔ بلکہ پولیس ملزمان کی سرپرستی کر رہی ہے۔ شہید ثقلین نقوی کا چہلم جامعہ دارالہدیٰ محمدیہ علی پور مظفر گڑھ میں ادا کیا گیا، جس میں جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر سے نمائندہ رہنماوں نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔چہلم کے اجتماع میں اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ اور نمائندہ ولی فقیہ علامہ سید ساجد علی نقوی بھی شریک ہوئے۔تعزیتی جلسے سے علامہ ساجد علی نقوی و دیگر علماء نے خطاب کیا۔انھوں نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ شیعیان حیدر کرار کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں ملت تشیع کا راستہ روکنے کے لئے قتل و غارت گری کا جاری سلسلہ انہیں مجبور کر رہا ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کا نیارنگ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاری قتل و غارت گری اور امن وامان کی خراب صورتحال سے لگتا ہے کہ پاکستان کو قاتلوں اور دہشتگردوں کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ بیواوں اور یتیموں کے لشکر ان کے سامنے ہیں جنہیں انصاف نہیں ملا، جبکہ ملت تشیع کے مقتولین کے مقدمات کے مدعی اور گواہان مارے جا رہے ہیں۔ لیکن دوسری طرف 86 دہشتگردوں اور قاتلوں کی ایک لسٹ اسلام آباد میں موجود ہے کہ جن کی آخری اپیلیں بھی مسترد ہو چکی ہیں، لیکن انہیں ابھی تک پھانسی نہیں دی گئی اور کتنے دہشتگرد اور خودکش حملہ آور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گرفتار کئے ہیں لیکن کسی ایک کے بارے میں حقائق قوم کے سامنے نہیں لائے گئے۔ انھوں نے کہا: ریاستی ادارے مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں؛شیعہ قوم کو دیوار سے لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ لیکن ہماری تاریخ گواہ ہے کہ شیعہ نے شہادت قبول کر لی مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری اور مجالس عزا کو کوئی قوت نہیں روک سکتی۔ان کا کہنا تھا کہ جتنی قربانیوں کی ضرورت ہوئی دیں گے، لیکن عزاداری سید الشہدا (ع) اور مجالس عزا پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عزاداری بند کرنے کی کوشش کی گئی تو شہر بھی کھلے نہیں رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملی مفاد میں وحدت و اتحاد، ایک موقف اور ایک آواز کا ہونا ضروری ہے۔ علامہ نقوی نے کہا: قوم قوت و طاقت کے اظہار کے لئے تیار رہے۔ موجودہ حالات میں قوت اور طاقت سے ہی زندہ رہا جا سکتا ہے۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملک میں جاری قتل و غارت اور دہشتگردی شیعہ سنی اختلافات کا نتیجہ نہیں، یہ صدیوں پرانے اور تاریخی ہیں، لیکن مثالی صبر و تحمل نظر آتا ہے۔ ہم گلی محلوں میں اکٹھے ہیں۔ کوئی لڑائی نظر نہیں آتی۔

ان کا کہنا تھا کہ دیوبندی، اہل حدیث اور بریلوی مکاتب فکر اس میں ملوث نہیں۔ مخصوص دہشتگرد گروہ یہ کارروائیاں کر رہا ہے۔ جس کی سرپرستی امریکہ اور اس کے حواری ممالک کرتے ہیں۔ قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ موجودہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس اقتدار نہیں، حتی کہ یہ تو شریک اقتدار بھی نہیں، اقتدار تو نادیدہ قوتوں کے پاس ہے، جو ملک کی قسمت سے کھیل رہی ہیں۔ حکومت صرف شریک اور مددگار ہے۔انہوں نے کہا کہ مکتب تشیع کو نصیریت میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔ علامہ ساجد نقوی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اختیار اور طاقت ہے کہ وہ نصیریت کے بگاڑ کو طاقت سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست گروہ کو ہم نے اپنی حکمت عملی سے گندگی کے ڈھیر پر تنہا کھڑا کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھنے والا مکتب تشیع بہتر اور برتر مسلک ہے۔ اسے جاہل مقررین کے نام پر بدنام کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں جو کہ کامیاب نہیں ہوں گی؛ ملک کے اندر اور باہر گروہ تیار کئے گئے، جنہوں نے طوفان بدتمیزی کے علاوہ شیعہ شخصیات کو ٹارگٹ کر کے قتل کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110