اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق العالمی کے نیوز ویب بیس نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی تجزیہ نگار "عبداللہ باجبیر" نے اپنے ایک مضمون میں سعودی عرب میں خاندانوں کے اندر تشدد کی افسوسناک صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: حقیقت یہ ہے کہ تشدد گھرانوں میں پایا جاتا ہے ... بعض محققین کہتنے ہیں کہ سعودی عرب کے صرف 10 فیصد خاندانوں میں تشدد کا عنصر پایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بحران بہت وسیع ہے۔ مثال کے طور پر ایک سعودی مرد چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور بیٹے کو ساتھ لے جاتا ہے اور بیٹیوں کو سابقہ بیوی کے پاس چھوڑ دیتا ہے جس سے معاشرتی بے راہروی پیدا ہوتی ہے یا ایک سعودی مرد اپنے بیٹے کو ٹارچر کرتا اور اس کو زنجیروں میں کستا ہے۔ ایسے حال میں فطری امر ہے کہ بیٹا موقع پاکر بھاگ جائے گا اور اپنی ماں کے پاس پناہ لے گا لیکن باپ جاکر بیٹے کو اس کی ماں کی آنکھوں کے سامنے ذبح کردیتا ہے۔
انھوں نے کہا: اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں اور اس کی صورتیں اور شکلیں مختلف ہیں؛ جیسے سوتیلی ماں ایک لڑکی کو ٹارچر کرکے جلادیتی ہے یا ایک باپ اپنی بیٹی کو ایک بوڑھے شخص سے شادی کرنے کے لئے زد وکوب کرتا ہے یا سعودی مرد اپنی بیوی کو بچوں کے سامنے مارتا پیٹتا ہے۔
باجبیر نے خبردار کیا کہ اس طرح کے واقعات میں اضافہ ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب میں گھریلو تشدد معمول کی عادت بن گیا ہے لیکن مدنی اور سرکاری اقدامات کا ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہيں ہوسکا ہے۔
انھوں نے لکھا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال تشدد عام ہونے کا سبب ہے اور بعض رپورٹوں کے مطابق تشدد کے تیس فیصد واقعات شراب نوشی اور منشیات کے استعمال سے رونما ہورہے ہیں حالانکہ یہ چیزیں حرام بھی ہیں اور بظاہر ممنوع بھی ہیں۔
باجبیر نے کہا: سعودی عرب میں تشدد کا شکار ہونے والے افراد کے لئے بظاہر کئی تنظیمیں تشکیل پائی ہیں لیکن تشدد کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام عمل میں نہيں آیا ہے۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
شام: آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں ڈوبےہوئے ہیں؛ شام کے خلاف آل سعود کی سازش