22 فروری 2012 - 20:30

منطقۃالشرقیہ کے علماء نے آل سعود کی فورسز کی طرف سے پرامن مظاہروں پر جبر و تشدد روا رکھنے کے عمل کی مذمت کرتے ہوئے آل سعود کو خبردار کیا ہے کہ وہ علاقے کو پولیس اسٹیٹ بنانے سے باز رہیں اور پرامن احتجاجی مظاہروں کو سرکاری طاقت کے ذریعے کچلنے کا رویہ ترک کردیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق حوزہ علمیہ الاحساء کے علماء نے ایک بیان میں پرامن مظاہروں پر آل سعود سے وابستہ سیکورٹی فورسز کے تشدد آمیز رویئے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ القطیف میں سرکاری کاروائی کے دوران اب تک متعدد افراد کی شہادت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کے بارے میں فوری تحقیقات کی جائیں اور سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

حوزہ علمیہ الاحساء کے علماء نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ احتجاجی تحریک کی بنیاد وہ احساس ہے جو علاقے کے شیعیان اہل بیت (ع) کے ہاں پایا جاتا ہے؛ اس علاقے کے عوام حکومت سے مکمل طور پر مایوس ہیں اور حکومت نے ان کو وعدے دیئے ہیں جن پر ایک لمحے کے لئے بھی عملدرآمد نہیں ہوا ہے اور یہ وعدہ خلافی علاقے کے مسائل اور مشکلات کی پیچیدگی کا سبب بنے ہوئی ہے۔

اس بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ پرامن مظاہرین کے ساتھ گولی کی زبان میں بات کرنے کا رویہ قابل مذمت ہے اور القطیف کے عوام کے دینی اور شہری مطالبات کو توجہ دی جانی چاہئے۔

سعودی عرب کے علماء نے شیخ توفیق العامر سمیت تمامی سیاسی قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: اہل تشیع کے خلاف اجلاسوں اور کانفرنسوں کا انعقاد، مساجد میں مولویوں کی اشتعال انگیز تقاریر اور جرائد اور روزناموں میں پروپیگنڈا مہم مسائل کے حل میں کوئی کردار ادا نہیں کرسکتی بلکہ اس مسائل اور بھی پیچیدہ ہونگے۔

علماء نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ شیعیان اہل بیت (ع) کے اکثریتی علاقوں میں مساجد اور حسینیات پر لگی ہوئی سرکاری پابندی فوری طور پر اٹھائی جائے اور انہیں اپنے عقائد کے مطابق اپنے علاقوں میں دینی اور مذہبی شعائر و اعمال کی پوری پوری آزادی دی جائے۔

........

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ